افغانستان ہیومن رائٹس سینٹر کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور طالبان پر منظم انداز میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خاص طور پر خواتین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو شدید دباؤ، تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
The #United #Nations #Human #Rights Office has warned that the human rights situation in #Afghanistan continues to worsen sharply, particularly for women and girls, under Taliban rule.
Presenting a new report at the Human Rights Council in #Geneva, #UN human rights chief Volker… pic.twitter.com/wfUPM4BxdY
— The Kabul Tribune (@TheKabultribun) March 30, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف سخت پابندیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں، جس کے باعث وہ مسلسل خوف کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی کئی کارکنان کو حراست میں لے کر تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح صحافیوں کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے اور متعدد افراد کو حراستی مراکز میں بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق اگر لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی 2030 تک برقرار رہی تو تقریباً 40 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو جائیں گی۔ طالبان کے زیر انتظام خفیہ اداروں، خصوصاً ڈائریکٹوریٹ 40، کو مبینہ طور پر تشدد کے مراکز قرار دیا گیا ہے جہاں کچھ قیدیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پھیلتے دہشتگردی کے مرکز کے خلاف پاکستان مضبوط دیوار
اے ایچ آر سی کے مطابق افغانستان میں عدالتی نظام کی آزادی متاثر ہوئی ہے اور فیصلے سخت تشریحات پر مبنی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں، جبکہ خواتین کو عدالتی نظام سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال سینکڑوں افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے اور متعدد کو سزائے موت بھی دی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ معاشی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں تقریباً 2 کروڑ 44 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ لاکھوں بچے بھوک، غذائی قلت اور تعلیم و صحت کی سہولیات سے محرومی کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف انسانی بحران کو بڑھا رہی ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بھی بڑھا رہی ہے۔














