وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے وسائل پر دباؤ کم کرنے کے لیے بازار کے اوقات میں کمی سمیت اقتصادی کفایت شعاری اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز نافذ ہوئی تو مارکیٹیں معمول کے شیڈول سے پہلے بند کر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا نتیجہ ہے، حکومت کا قصور نہیں، رانا ثنااللہ
میڈیا رپورٹ کے مطابق نجی ٹیلیویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں بازاروں کے اوقات میں کمی پر غور کیا گیا، جبکہ صرف شادی ہال اور ریستوران رات 10 بجے تک کھلے رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

وزیر نے معاشی صورتِ حال کی سنگینی پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ حکومت اہم مالی چیلنجز کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے ہفتے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے ساتھ کلیدی اجلاسوں کے لیے بیرونِ ملک جائیں گے، جس میں پاکستان اپنی معاشی دباؤ کی شدت اور مجموعی اقتصادی فریم ورک پر دوبارہ غور کی ضرورت واضح کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بازاروں کے کھلنے، بند ہونے کے اوقات قومی معیشت پر بوجھ بن گئے، خواجہ آصف
علی پرویز ملک نے توانائی کی صورتحال کے بارے میں بھی بتایا کہ قطر سے گیس کی فراہمی میں رکاوٹ کے بعد ملکی گیس فیلڈز نے 400 سے 500 ایم ایم سی ایف ڈی فراہم کر کے صورتحال مستحکم کی ہے۔














