پاسکو ختم کرنے کی تیاری،حکومت کا 350 ارب روپے کی گندم کمپنی بنانے کا فیصلہ

اتوار 5 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے گندم کے ذخیرہ اور خریداری کے نظام میں اصلاحات کے لیے 350 ارب روپے کی نئی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالی دباؤ کم کرنا، ذخیرہ نظام کی بہتری اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی کمپنی ’وہیٹ اسٹاک مینجمنٹ کمپنی (WSMC)‘ کے نام سے قائم کی جائے گی، جو پاسکو کی جگہ لے گی اور اس کے 527 ارب روپے سے زائد کے واجبات بھی اپنے ذمے لے گی۔ کمپنی کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کر لیا گیا ہے اور یہ قومی گندم ذخائر کا کنٹرول سنبھالے گی۔

حکام کے مطابق اس کمپنی کا مجاز سرمایہ 350 ارب روپے ہوگا اور یہ بینکوں سے طویل مدتی قرضہ بھی حکومتی ضمانت کے تحت حاصل کرے گی۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کو کمپنی کا چیئرمین بنانے کی تجویز ہے، جبکہ بورڈ میں دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گندم کی خریداری اور ذخیرہ میں موجود دیرینہ مسائل، اضافی ذخیرہ اندوزی، صوبوں کو ادائیگی میں تاخیر اور کمزور انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

یہ اصلاحات دسمبر 2025 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور اور بعد ازاں وفاقی کابینہ سے توثیق حاصل کر چکی ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس منصوبے کی منظوری دے چکے ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ نئی کمپنی کے قیام سے نہ صرف نظام میں بہتری آئے گی بلکہ مستقبل میں قرضوں کے بوجھ میں بھی کمی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین ’مصنوعی سورج‘ بنانے کے مزید قریب، 582 ٹن وزنی فیوژن مقناطیس کا کامیاب تجربہ

راولاکوٹ میں ملک دشمنی کا اظہار کرنے والوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرلیا

جاپان کے کیوشو جزیرے میں 7.1 شدت کا زلزلہ، متعدد افراد زخمی، عمارتیں منہدم : وزیراعظم سانائے تاکائیچی

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی