مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والا عالمی تیل بحران اب ایک بڑے معاشی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو صرف ایندھن تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کو متاثر کر رہا ہے۔ ’سی این این‘ کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی سپلائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس بحران کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں بلکہ پلاسٹک، ربڑ اور دیگر پیٹروکیمیکل مواد کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے، جو روزمرہ اشیا کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایشیا، جو عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز ہے، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان میں پلاسٹک مصنوعات کی کمی، قیمتوں میں اضافہ اور بعض شعبوں میں پیداوار میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا پیٹرول لیوی میں 80 روپے کم کرکے قیمت 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان
سی این این کے مطابق اس بحران کی ایک بڑی وجہ ’نیفتھا‘ کی قلت ہے، جو پیٹرولیم سے حاصل ہونے والا ایک اہم جزو ہے اور مصنوعی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کمی کے باعث کئی فیکٹریاں اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

یہ صورتحال صنعتی شعبے کے ساتھ ساتھ طبی اور زرعی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ جاپان میں طبی آلات کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ملائیشیا میں طبی دستانوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح کھاد اور دیگر زرعی اجزا کی قیمتوں میں اضافہ خوراک کی مہنگائی کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: پیٹرول مہنگا ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے برقرار رکھنے کا فیصلہ
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا بھی ماننا ہے کہ یہ بحران عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات عالمی تجارت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
اگرچہ مختلف ممالک اپنے تیل کے ذخائر استعمال کر کے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اصل چیلنج پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قلت ہے، جس کا فوری متبادل دستیاب نہیں۔ اسی وجہ سے بعض کمپنیاں متبادل مواد استعمال کرنے پر غور کر رہی ہیں، مگر یہ عمل مہنگا اور وقت طلب ہے۔

مجموعی طور پر سی این این کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بحران محض تیل تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو دنیا کو طویل عرصے تک مہنگائی، صنعتی سست روی اور اشیا کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔












