امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس II مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اُس حصے کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا، اور اسے ایک حیرت انگیز اور مختلف تجربہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اطالوی فیشن برانڈ اب اسپیس سوٹ بھی بنائے گا
میڈیا رپورٹ کے مطابق خلا بازوں نے اورائن کیپسول سے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ چاند کا یہ رخ ان کے لیے بالکل نیا تھا۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کے مطابق چاند کے سیاہ حصے اپنی معمول کی جگہ پر نہیں لگ رہے تھے اور یہ منظر زمین سے دکھائی دینے والے چاند سے مختلف محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ حصہ ہے جسے انسانوں نے براہِ راست کبھی نہیں دیکھا۔
A group of humans are now closer to the Moon than they are to the Earth.
Behind them is a blue marble, a porch light we left on for them to find their way back in a dark night.
In front of them is the Moon that has shined a human eternity.
Godspeed. pic.twitter.com/zTClwIpejp
— Brian Roemmele (@BrianRoemmele) April 5, 2026
آرٹیمس II مشن کے 4 رکنی عملے میں ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا کے خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی مشن پر روانہ ہوئے ہیں۔ یہ مشن 10 دن پر مشتمل ہے اور خلا باز اب چاند کے سفر کے نصف سے زیادہ مرحلہ طے کر چکے ہیں۔
That’s not “something weird”… that’s the Moon in insane detail 🌕
Those dark patches? Ancient lava plains (called maria).
Those tiny dots everywhere? Impact craters from millions of years of cosmic hits.Zoom in close enough and space starts looking unreal.
Crazy part? This… pic.twitter.com/b5ocQUyLmM
— IICON (@Lambertwisdom2) April 3, 2026
خلا بازوں کے مطابق خلا میں زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ ہے، جس نے انہیں حیرت اور عاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں انسانی معمولات بھی جاری رہتے ہیں، جیسے آرام کرنا اور روزمرہ کے کام انجام دینا، جو اس سفر کو مزید منفرد بناتا ہے۔
مشن کے دوران خلا بازوں کو چند تکنیکی مسائل کا بھی سامنا رہا، جن میں ای میل سسٹم اور خلائی ٹوائلٹ کی خرابی شامل تھی، تاہم مجموعی طور پر سفر کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنک مون: آپ بھی اپنے کیمرے تیار کرلیں اور وقت بھی جان لیں
ماہرین کے مطابق اس مشن کے دوران لی جانے والی تصاویر اور مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا باز جلد چاند کے قریب ترین مقام سے گزریں گے اور اس کے بعد زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کریں گے۔













