وفاقی آئینی عدالت میں وزیرآباد میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مختلف فیصلوں میں 4 بہنوں کا حصہ ایک ہی بہن کو کیوں دے دیا گیا؟
وکیلِ درخواست گزار بہن نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک بہن نے تقسیم کو چیلنج کیا تھا، اسی بنیاد پر یہ فیصلہ سامنے آیا۔ وکیل کے مطابق ان کی موکلہ نے وراثت میں حصہ مانگا تو انہیں بہن ماننے سے ہی انکار کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کا معاہدہ آج متوقع
دوسری جانب فریقِ بہن سردار بیگم کے وکیل نے کہا کہ سردار بیگم عبداللہ کی بیٹی نہیں ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سردار بیگم عبداللہ کی بیٹی نہیں ہیں؟ جس پر وکیل نے دوبارہ مؤقف اپنایا کہ وہ ان کی بیٹی نہیں ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اگر وہ بیٹی نہیں ہیں تو اس کا تحریری بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی۔
ریکارڈ کے مطابق والد کی وفات کے بعد 1989 میں جائیداد 3 بہنوں اور 2 بھائیوں میں تقسیم ہوئی تھی، تاہم 2018 میں بہن نورین نے اس پرانی تقسیم کو عدالت میں چیلنج کیا۔ بعد ازاں کمشنر ریونیو نے زمین کی تقسیم کا فیصلہ نورین کے حق میں دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ہائی پروفائل قتل کیس، امیر جماعت اسلامی نے ام رباب کی عدالتی معانت کا اعلان کردیا
مزید یہ کہ سردار بیگم نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے کی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے انہیں بھی جائیداد میں حصہ دینے کا واضح حکم دیا تھا۔












