ہائی پروفائل قتل کیس، امیر جماعت اسلامی نے ام رباب کی عدالتی معانت کا اعلان کردیا

اتوار 5 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہائی پروفائل قتل کیس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی کارروائی میں ام رباب چانڈیو کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرداری نظام کے خلاف جدوجہد: ام رباب چانڈیو تہرے قتل کیس کے تمام ملزمان بری، ہائیکورٹ میں اپیل کا اعلان

کراچی میں ام رباب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ام رباب سندھ کی بیٹی ہیں اور جدوجہد کی علامت بن چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں خود میہڑ جاؤں گا اور اظہار یکجہتی کروں گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کورٹ سے رہائی کے بعد ملزمان نے ہوائی فائرنگ کی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران ام رباب کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد، کھیتوں میں بکریاں داخل ہونے پر وڈیرے نے بچے کی جان لے لی

ام رباب چانڈیو نے کہا کہ میرے والد کو سردارانہ نظام کے خلاف بات کرنے پر قتل کیا گیا۔ سندھ بھر کی نظریں میرے کیس پر تھیں، لیکن فیصلہ ہمارے خلاف آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایپکس کورٹ میں اپنا کیس لڑیں گی اور جنہوں نے ان کے والد کو قتل کیا ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

ام رباب نے صدر مملکت آصف زرداری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں، اور واضح کیا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتیں، صرف انصاف چاہتی ہیں۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ کے علاقے میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے والد مختار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ ورثا کے مطابق مقتولین نے علاقے میں مروجہ سرداری نظام کے خلاف تمندار کونسل قائم کی تھی، جس کی پاداش میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ : خاتون نے بیٹے اور شوہر کو کیوں قتل کیا؟

یہ مقدمہ 8 سال تک مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ اسے انسداد دہشتگردی عدالت (ATC) نوشہروفیروز، سکھر، میرپور ماتھیلو اور بالآخر سیشن کورٹ دادو منتقل کیا گیا۔ ام رباب کے مطابق اس دوران 400 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔

اس وقت کے پولیس افسر پیر محمد شاہ نے اپنی انکوائری رپورٹ میں رکن اسمبلی سردار چانڈیو اور ان کے بھائی برہان الدین کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر کلین چٹ دی تھی، جسے مدعیہ نے مسترد کر دیا تھا۔

انصاف کے حصول کے لیے ام رباب چانڈیو نے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی روک کر احتجاج کیا، جس کے بعد یہ کیس قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا۔ وہ طویل عرصے تک ننگے پاؤں عدالتوں کے چکر کاٹتی رہیں، جو ان کی جدوجہد کی پہچان بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp