سیاچن کے محاذ پر 7 اپریل 2012 کو پیش آنے والے المناک سانحہ گیاری کے شہدا کی آج 14ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ’ہمارے جواب کا انتظار کرو‘، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے بھارت میں حملوں تک کیا کچھ ہوا؟
سیاچن گلیشیئر دنیا کا بلند ترین میدانِ جنگ ہے، جہاں دشمن کے ساتھ ساتھ سخت موسمی حالات بھی پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے لیے ایک بڑی آزمائش ہوتے ہیں۔
سیاچن کے محاذ پر 7 اپریل 2012 کو پیش آنے والے المناک سانحہ گیاری کے شہدا کی آج 14ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔پوری قوم گیاری کے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے، جن کی عظیم قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں زندہ رہیں گی۔@iamabidmalik @abbasnasir59 @AmirSaeedAbbasi pic.twitter.com/pjo0jlSmuk
— Media Talk (@mediatalk922) April 7, 2026
7 اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر ایک دلسوز حادثہ پیش آیا جب ایک بڑا برفانی تودہ پاک فوج کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں 129 فوجی جوان وطن کے دفاع میں شہید ہو گئے۔
یہ سانحہ اس قدر شدید تھا کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی امدادی کارروائی کو انتہائی مشکل قرار دیا، تاہم پاک آرمی کی انجینئرز کور نے جذبہ حب الوطنی کے تحت ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور اسے کامیابی سے مکمل کیا۔
مزید پڑھیں: در پردہ اہداف کے لیے سوشل میڈیا پر زہریلے پروپیگینڈا سے قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے: قومی سلامتی کونسل
شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سیاچن کے محاذ پر یادگار شہدا بھی تعمیر کی گئی ہے۔
آج پوری قوم سانحہ گیاری کے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے، جن کی عظیم قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں زندہ رہیں گی۔













