مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف پارٹی کے مختلف عہدوں پر بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے جلد ہی پارٹی کا مرکزی اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کے صوبائی صدر اور مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آپ مرکزی پارٹی کو دیکھیں، احسن اقبال اپنی وزرات کے اندر مصروف ہیں اور بہت سے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مجھے آفر کروائی گئی کہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل بن جائیں لیکن میں اس عہدے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔
یہ بھی پڑھیے: نہال ہاشمی اور بشیر میمن میں مبینہ کشیدگی، ن لیگ کی قیادت نے وضاحت طلب کرلی
رانا ثناء اللہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے پارٹی صدر میاں نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے، پارٹی صدر بھی پنجاب سے ہو اور مرکزی سیکریٹری جنرل بھی پنجاب سے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس عہدے پر تبدیلی لائے جائے، انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی قیادت کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ حمزہ شہباز پنجاب کے صدر بننے کے لیے موزوں امیدوار ہیں اور انہیں مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر بنایا جائے۔
مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ بتایا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ پنجاب کے حد تک نئی تنظیم سازی کی جائے، پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، جنوبی پنجاب، وسطحی پنجاب کا الگ سے پارٹی صدر ہو اور سنٹرل پنجاب میں الگ سے تاکہ منظم طریقے سے پارٹی کو چلایا جا سکے۔ ڈویژن اور ضلعی صدور کو تبدیل کیا جائے اور تمام عہدوں کی مدت 5 سال کی جائے تاکے جس سطح پر عہدے دیے جائیں وہاں پر کام ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیے: کارکردگی کے میدان میں مقابلہ نہیں کر پاتے تو کردار کشی پر اتر آتے ہیں، ن لیگ کی مریم نواز کے خلاف مہم کی مذمت
انہوں نے بتایا کہ اگر پارٹی نے مجھے مرکزی جنرل سیکریٹری بنایا تو میں قائم مقام سیکرٹری جنرل بنوں گا کیونکہ میں وفاق میں بہت مصروف ہوں ،پارٹی کا اگر مرکزی سیکریٹری جنرل مجھے بنایا گیا تو میرے لیے پنجاب میں بیٹھنا بہت ضروری ہوگا، حمزہ شہباز شریف پنجاب کے صدر کے لیے بہترین چوائس ہیں اگر وہ مان جائیں تو یہ پارٹی کے لیے بہت اچھا ہوگا، پارٹی کے لوگوں کے جو مسائل ہیں وہ با آسانی حل ہو سکیں گے۔
میاں نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیوں کا فیصلہ جلد ہی پارٹی اجلاس میں متوقع ہے۔












