‘عمران خان نے 75 مرتبہ التوا حاصل کیا،’ بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہتکِ عزت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں بانی تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے دلائل دیے۔

سماعت کے دوران وکیل مصطفیٰ رمدے نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کے وکیل کی جانب سے نظرِ ثانی کے لیے کوئی ٹھوس نکتہ نہیں اٹھایا گیا، نہ ہی عدالتی فیصلے میں کسی سقم یا غلطی کی نشاندہی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی ہتک عزت کیس: سپریم کورٹ میں بینچ تبدیل

انہوں نے بتایا کہ جولائی 2017 میں شہباز شریف نے بانی تحریک انصاف کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، تاہم بانی کی جانب سے اس کا جواب 4 سال بعد جمع کرایا گیا۔ وکیل کے مطابق تحریری جواب داخل ہونے تک بانی کے وکیل نے 75 مرتبہ التوا حاصل کیا۔

اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف کا ترمیمی جواب 8 مارچ کو جمع ہوا، جبکہ اس کے بعد بانی کی جانب سے انٹیروگیٹری کا جواب 9 ماہ تک جمع نہیں کرایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو وکیل سے ملاقات کی اجازت دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ بانی کو گولی لگنے کا واقعہ افسوسناک ہے، تاہم 17 اور 24 نومبر کو عدم دستیابی کا کوئی گراؤنڈ پیش نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، جبکہ وکیل مصطفیٰ رمدے کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

اسلام آباد: سری نگر ہائی وے پر ڈائیورشنز، شہریوں کو اضافی وقت لے کر سفر کی ہدایت

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟