سوشل میڈیا پر پاکستان کے ڈیزل سیکٹر اور قیمتوں کے تعین کے نظام سے متعلق وائرل ہونے والے دعوؤں پر ماہرین اور صنعتی حلقوں کی جانب سے وضاحت سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان دعوؤں میں حقائق کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا میں یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ پاکستان اپنی 87 فیصد ڈیزل مقامی طور پر پیدا کرتا ہے اور ریفائنریز کو درآمدی قیمت پر ادائیگیاں کر کے مبینہ طور پر ماہانہ اربوں روپے کا غیر معمولی فائدہ دیا جا رہا ہے۔ تاہم توانائی شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ موجودہ ریفائننگ صلاحیت اور پیداواری ڈھانچے کی درست عکاسی نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیے: پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان میں نہیں، خطے میں جاری جنگ کا نتیجہ ہے، وفاقی وزرا
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ریفائننگ سیکٹر محدود صلاحیت کے باعث مجموعی ڈیزل طلب کا زیادہ سے زیادہ 40 فیصد حصہ ہی مقامی طور پر پورا کر سکتا ہے، جبکہ خام تیل کا بڑا حصہ اب بھی درآمد کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے مطابق امپورٹ پیرٹی سسٹم کے تحت کیا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں استعمال ہونے والا ایک شفاف اور معیاری طریقہ کار سمجھا جاتا ہے۔
دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا رسک پریمیم، جنگی انشورنس اور ممکنہ روٹ تبدیلی کے اخراجات قیمتوں میں شامل نہیں کیے جاتے، تاہم توانائی ماہرین کے مطابق یہ عناصر مختلف سطحوں پر لاگت کے مجموعی ڈھانچے میں بالواسطہ طور پر شامل ہوتے ہیں اور مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیے جاتے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی بحران کے بعد ڈیزل قیمتوں میں اضافہ، پاکستان میں سب سے کم اضافہ ریکارڈ
اسی بحث میں ریفائنری سیکٹر کے ماہانہ مبینہ 22 ارب روپے کے ‘خالص منافع’ کے دعوے کو بھی غیر مصدقہ اور سیاق و سباق سے ہٹ کر قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ریفائننگ منافع کا انحصار عالمی خام تیل کی قیمتوں، ریفائنری منافع اور مقامی ڈیمانڈ سپلائی کے اتار چڑھاؤ پر ہوتا ہے۔
مزید برآں تقریباً 90 فیصد خام تیل جو وہ پروسیس کرتے ہیں درآمد کیا جاتا ہے اسی لیے قیمتیں اب بھی عالمی منڈیوں کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہیں جبکہ خالص منافع اور درآمد سے متعلق اخراجات نہ ہونے کے دعوے اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں۔














