جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ 11 جماعتوں پر مشتمل حزب اختلافی اتحاد نے حکومت پر حالیہ ریفرنڈم کے نتائج پر عمل درآمد میں تاخیر اور آئینی اصلاحات کو روکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
یہ فیصلہ منگل کو ڈھاکہ میں اتحاد کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس میں سینیئر رہنماؤں سمیت بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پرور اور بنگلہ دیش خلافت مجلس کے رہنما مولانا ممنون الحق نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں مولانا ممنون الحق نے کہا کہ حالانکہ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہونے والے قومی ریفرنڈم میں تقریباً 70 فیصد ووٹرز نے اصلاحاتی تجاویز کی حمایت کی، حکومت مختلف حربوں کے ذریعے عمل درآمد میں تاخیر کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اصلاحات سے متعلق 133 آرڈیننس میں سے حکومت نے کم از کم 20 اہم اقدامات کو منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو سیاسی نظام کی ساخت نو اور آمریت کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے سخت کفایت شعاری اقدامات، عوامی فنڈز سے بیرونی دوروں پر پابندی عائد
اتحاد نے خبردار کیا کہ حکومت کے اقدامات ملک کو ایک پارٹی کے زیر غلبہ نظام کی طرف دھکیل سکتے ہیں اور آمریت کے دوبارہ نفاذ کی صورت میں مزاحمت کرنے کا عزم کیا ہے۔
میاں غلام پرور نے کہا کہ یہ بحران حکمران جماعت کی جولائی چارٹر کے تحت کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے پیدا ہوا، جو کئی ماہ کی سیاسی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔
مزید پڑھیں: بھارتی بی جے پی رہنما کے متنازع بیان پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی شدید مذمت
انہوں نے بتایا کہ آئینی اصلاحات سے متعلق 47 نکات سمیت 84 متفقہ نکات حکمران جماعت کی شراکت سے منظور ہوئے، لیکن بعد میں اہم مسائل جیسے وزیراعظم کے اختیارات کی حدود، عبوری حکومت کی شقیں اور آئینی تقرری کے طریقہ کار پر اختلاف ظاہر کیا گیا۔
غلام پرور نے مزید کہا کہ تقریباً 50 ملین لوگوں نے ریفرنڈم میں اصلاحاتی ایجنڈا کی حمایت کی تھی یہی وجہ ہے کہ عوامی رائے کو آئینی عمل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
سیاسی دباؤ کے الزامات
حزب اختلاف نے حکومت پر اختلاف رائے کو دبانے کے بھی الزامات لگائے، جن میں پارلیمانی مباحثے کو محدود کرنا اور سڑکوں پر احتجاج پر ممکنہ کریک ڈاؤن کی وارننگ شامل ہے۔
غلام پروار نے کہا کہ عوام نے انہیں بھی مینڈیٹ دیا ہے۔ ’اگر اس مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا تو ہم اپنی تحریک عوام کے درمیان لے جائیں گے۔‘
اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آئینی اصلاحاتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور ریفرنڈم میں منظور شدہ تجاویز کو قانون میں شامل کیا جائے، بصورت دیگر آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت آئے گی۔













