بنگلہ دیش نے نئی حکومت کے قیام کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے خارجہ پالیسی میں ’بنگلہ دیش فرسٹ‘ حکمتِ عملی اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے بدھ کے روز نئی دہلی میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری اور ایک روز قبل قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقاتیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سابق اسپیکر شرین شرمین چوہدری عوامی احتجاج کے دوران تشدد کے کیس میں گرفتار
ان ملاقاتوں میں وزیر اعظم کے مشیر ہمایوں کبیر اور ہائی کمشنر ریاض حمید اللہ سمیت اعلیٰ بنگلہ دیشی حکام شریک ہوئے۔
دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور علاقائی و عالمی صورتحال کا جائزہ لیا۔
#Bangladesh’s foreign minister met his Indian counterpart in New Delhi, the most senior visit by a Dhaka envoy since the 2024 revolution toppled India’s old ally Sheikh Hasina.https://t.co/X8dSuWDdOi
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) April 8, 2026
ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے کہا کہ نو منتخب حکومت، جس کی قیادت وزیر اعظم طارق الرحمان کر رہے ہیں، ’بنگلہ دیش فرسٹ‘ پالیسی اپنائے گی، جو باہمی احترام اور مساوی مفادات پر مبنی ہوگی۔
سیکیورٹی تعاون بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہا، بنگلہ دیش نے بھارت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے شہید عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی معاہدوں کے تحت حوالگی کا عمل مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: خسرے کی نگرانی میں شدت، وسیع تر وبا کا خدشہ
بنگلہ دیش نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کی حوالگی کا مطالبہ بھی دہرایا، جنہیں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
معاشی شعبے میں بھارت نے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا طریقہ کار میں نرمی کا عندیہ دیا، خاص طور پر طبی اور کاروباری سفر کے لیے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر
توانائی کے شعبے میں بھی تعاون زیرِ بحث آیا۔ بنگلہ دیش نے حالیہ ڈیزل فراہمی پر بھارت کا شکریہ ادا کیا اور ایندھن اور کھاد کی برآمدات بڑھانے کی درخواست کی، جس پر بھارتی وزیر نے مثبت ردعمل دیا۔
دونوں ممالک نے اہم دوطرفہ امور پر باضابطہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جو محتاط مگر مستقبل پر نظر رکھنے والے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔












