امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے صہیونی سب سے زیادہ ناخوش ہیں، جنہیں امن کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس تنازع کے دوران اسرائیل نے ہر ممکن کوشش کی کہ مذاکرات کو ناکام بنایا جائے، جس کے لیے ایران کی اعلیٰ قیادت اور متبادل رہنماؤں کو ہلاک کردیا گیا، تاکہ کوئی مذاکرات کے لیے دستیاب نہ رہے۔
خصوصاً تجربہ کار اور معتدل مذاکرات کار علی لاریجانی اسی مقصد کے تحت نشانہ بنایا گیا۔
جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جو امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔
اسرائیل کی جانب سے بیروت میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ سے پہلے زیادہ سے زیادہ نقصان کیا جا سکے۔













