پاکستان متحدہ عرب امارات کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات لازوال

جمعرات 9 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات کا قیام 1968 میں اس وقت عمل میں آیا جب برطانوی حکومت نے اماراتی ریاستوں کا انتظام و انصرام چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کیا۔

1971 میں متحدہ عرب امارات کی ریاست کا ابتدائی خاکہ تشکیل پایا اور اُس کے بعد 1974 میں اس کے سرحدی معاہدات ہوئے لیکن پاکستان نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کو بطور ایک ریاست کے تسلیم کر لیا تھا۔

پاکستان کے اِس ملک کے ساتھ رشتے ناطے ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں اور آج بھی پاکستانیوں کی 15 سے 18 لاکھ تعداد متحدہ عرب امارات میں مختلف حیثیتوں میں کام کرتی ہے اور پاکستان میں ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان یو اے ای سفارتی تعلقات میں پیشرفت، سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سہولت فعال

اس وقت پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات بہت اچھے ہیں، یو اے ای نے پاکستان کے کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود آتے جاتے رہتے ہیں۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو چار مراحل میں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 1970 سے 1980 پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں ادارہ جاتی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

1980 سے 1990 پاکستان کی افرادی قوّت نے وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا، 1990 کی دہائی میں کاروباری شراکت داری اور 2010 کے بعد سے دونوں بڑنے منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

پاکستان پہلا ملک جس نے متحدہ عرب امارات کو تسلیم کیا

متحدہ عرب امارات کے قیام کے فوراً بعد پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اسے بطور خودمختار ریاست تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات فوری قائم ہو گئے۔

متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان آل نہیان نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا اور متعدد بار دورے کیے، ان کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے رشتے استوار ہوئے۔

شیخ زاید بن سلطان النہیان کے دور میں 1968 سے ہی پاکستانی فوج نے ابوظہبی کی دفاعی فورسز کی تربیت شروع کی۔ یو اے ای ایئر فورس کے ابتدائی چیف آف اسٹاف پاکستانی افسران تھے۔ پاکستان نے یو اے ای کو آرمی، نیوی، ایئر فورس اور پولیس کی تربیت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

متحدہ عرب امارات کے اداروں کی تشکیل میں پاکستان کا کردار

ابتدائی دہائیوں میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی ادارہ سازی میں اہم معاونت فراہم کی، جس میں ایوی ایشن، دفاع، انفراسٹرکچر اور بینکاری جیسے شعبے شامل تھے۔

ہوا بازی کے میدان میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے نہ صرف یو اے ای کے سول ایوی ایشن ڈھانچے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی بلکہ امارات ایئرلائن کے قیام کے ابتدائی مراحل میں تکنیکی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور عملے کی تربیت میں بھی کردار ادا کیا۔

پاکستانی پائلٹس، انجینیئرز اور کیبن کریو نے ابتدائی ٹیم کی تشکیل اور تربیت میں حصہ لیا، جس نے بعد میں امارات ایئرلائن کو عالمی سطح کی ایئرلائن بنانے میں مدد دی۔

اسی طرح بینکاری اور مالیاتی نظام کی تشکیل میں بھی پاکستانی ماہرین کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔ یو اے ای کے قیام کے ابتدائی برسوں میں جب جدید بینکاری ڈھانچہ تشکیل پا رہا تھا، اس وقت پاکستانی بینکاروں اور مالیاتی ماہرین نے ادارہ جاتی سیٹ اپ، بینکنگ طریقہ کار اور مالیاتی نظم و نسق کے قیام میں مدد فراہم کی۔ گوکہ یہ کہنا مبالغہ آمیز ہو گا کہ سارا نظام پاکستان نے بنایا لیکن ابتدائی خاکے کی تشکیل پاکستان نے کی۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے موجودہ تعلقات اور تجارت

اِس وقت متحدہ عرب امارات میں قریباً 15 سے 18 لاکھ پاکستانی مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جو یو اے ای کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا معاشی سہارا ہیں۔ یہ افراد ہر سال قریباً 6.5 سے 7 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجتے ہیں، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیاں تجارت کا حجم قریباً 10 سے 11 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان یو اے ای کو ٹیکسٹائل، چاول، گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے، جبکہ یو اے ای سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور صنعتی اشیا درآمد کی جاتی ہیں۔

توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، رئیل اسٹیٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں یو اے ای کی بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

دفاعی شعبہ

دفاعی شعبے میں پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات انتہائی قریبی رہے ہیں۔ پاکستانی فوجی افسران اور ماہرین نے یو اے ای کی مسلح افواج کی تربیت، تنظیم اور پیشہ ورانہ ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

کئی دہائیوں تک پاکستانی اہلکار یو اے ای میں خدمات انجام دیتے رہے، اور مشترکہ فوجی مشقوں اور سیکیورٹی تعاون نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کیا۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے

گزشتہ برس دسمبر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ ان کا بطور صدر پاکستان کا پہلا دورہ تھا، جس میں وہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: یو اے ای نے پاکستان کا 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا

پھر وزیراعظم شہباز شریف نے جون 2025 میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔ اِس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے فروری 2025 میں دبئی میں منعقدہ ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شرکت کے لیے بھی یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp