برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری نقل و حمل پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بیان ایران کی اس کوشش کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں وہ اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر کے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے قبل اس گزرگاہ کو باضابطہ طور پر ایک بین الاقوامی آبی راستہ تصور کیا جاتا تھا۔
Foreign sec @YvetteCooperMP tells Sky News she is "deeply troubled" by the Israeli attacks on Lebanon and wants the ceasefire to be extended to the country.
She adds that "it is crucial that Iran is not allowed to introduce tolls on the Strait of Hormuz." pic.twitter.com/JrCOpxglu9
— Sky News (@SkyNews) April 9, 2026
لندن کے مینشن ہاؤس میں سالانہ خارجہ پالیسی خطاب کے دوران یوویٹ کوپر نے اس بات پر زور دیا کہ سمندروں کی بنیادی آزادیوں کو یکطرفہ طور پر نہ تو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی ایک فریق کے ہاتھ فروخت کیا جا سکتا ہے۔
’بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹولز (ٹیکس) کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ جہاز رانی کی آزادی کا مطلب یہی ہے کہ اس پر کوئی پابندی یا فیس نہ ہو۔‘
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں پاکستانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ من گھڑت
علاوہ ازیں، یوویٹ کوپر نے عالمی رہنماؤں کے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان منگل کو طے پانے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔
ادھر اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے، جن میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا۔














