ایران امریکا مذاکرات کی راہ میں اسرائیل ایک بڑا خطرہ، یورپی یونین بھی اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف بول پڑی

جمعرات 9 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کل پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی دِن ہے جب پاکستان دُنیا میں ایک مصالحت کار اور امن کے پیامبر کے طور سامنے آیا ہے، لیکن کچھ قوتیں مذاکرات کے اِس عمل کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، کیونکہ جنگ بندی اور امن اسرائیل کا ہدف نہیں۔

مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل اِس وقت بھی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں سینکڑوں عام شہریوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات سے وابستہ توقعات اور خدشات، دفاعی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیانات میں اسرائیل کے اِس اقدام کو قیام امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ابتدائی امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک دھوکہ ہے اور ایران اپنے لبنانی بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

اپنے ایکس پیغام میں مسعود پزشکیان نے لکھا کہ ہماری انگلیاں اِس وقت ٹرِیگر (بندوق کے بٹن) پر ہیں۔

یہ صرف ایران نہیں بلکہ یورپی یونین کی نائب صدر اور نمائندہ کایا کالس نے آج ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ حزب اللہ نے لبنان کو جنگ میں گھسیٹا، لیکن اسرائیل کا اپنے دفاع کا حق اس قدر وسیع پیمانے پر تباہی مچانے کا جواز فراہم نہیں کرتا، گزشتہ رات اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد یہ مؤقف اختیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایسی سخت کارروائیاں سیلف ڈیفینس کے زمرے میں آتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیلی اقدامات امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو شدید دباؤ میں ڈال رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے چاہییں۔ یورپی یونین لبنان کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے پیغام میں کہاکہ میں نے ابھی لبنان کے صدر اور وزیرِاعظم سے بات کی ہے، میں نے آج لبنان میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے اندھا دھند حملوں کے نتیجے میں ہونے والے بڑے پیمانے پر شہری جانی نقصان پر فرانس کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم ان حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملے حال ہی میں طے پانے والی جنگ بندی کی پائیداری کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ اس جنگ بندی کا اطلاق مکمل طور پر لبنان پر بھی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے لبنان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیاکہ فرانس لبنانی حکام کی خودمختاری کے تحفظ اور حزب اللّہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اسرائیل اِن مُذاکرات کو مُشکل بنانا چاہتا ہے: سفارتکار مسعود خالد

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کا ایجنڈا اِن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے اور وہ اِس کے لیے کوششیں بھی کررہا ہے کیونکہ اس کا ایجنڈا تمام خلیجی ممالک کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اب تک ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے حاصل تو کچھ بھی نہیں کیا، اس کے کوئی اہداف پورے نہیں ہوئے۔ کل اسرائیل نے لبنان میں 250 سے زیادہ لوگوں کو شہید کیا جبکہ لبنان میں جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ تھی۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل اِس طرح کے اقدامات کے ذریعے ایران اور امریکا کے مذاکرات کو مُشکل بنانا چاہتا ہے، لیکن امریکا میں اندرونی کشمکش بھی جاری ہے جہاں کچھ لوگ اسرائیل کے حامی جبکہ عوامی رائے اِس جنگ کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے امریکا اب اِس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔

مسعود خالد نے کہاکہ ایران نیک نیتی کے ساتھ اِن مُذاکرات میں شامل ہے۔ امریکا نے 15 جبکہ ایران نے 10 نکات پیش کیے ہیں جن پر اتفاقِ رائے ممکن نہیں لیکن تین سے چار نقاط ایسے ہیں جہاں طرفین کے درمیان اتفاقِ رائے ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ مثال کے طور پر ایران بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے دستبردار ہونے کو تیار ہے اور دوسرا آبنائے ہرمز کھولے جانے کے طریقہ کار پر اتفاقِ رائے ہو سکتا ہے لیکن اسرائیل کی کوشش ہے کہ مذاکرات کو زیادہ سے زیادہ مُشکل بنایا جائے اور وہ اِن کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کرتا رہے گا۔

اِس جنگ میں اسرائیل کے اہداف حاصل نہیں ہوئے: سفارتکار وحید احمد

پاکستان کے سابق سفیر وحید احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی تین سطحوں میں منقسم ہے، ابتدائی، ثانوی اور پیریفرل، اسرائیل کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اِن تین دائروں کے اندر اُس کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اپنے اردگرد ہمسایہ ممالک کی فوجوں کو یا تو وہ تباہ کر چُکا ہے یا اُن کے ساتھ ایسے انتظامی معاہدے کر چُکا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام نہ کر سکیں۔

انہوں نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جیسا کہ مِصر کی فوج کو امریکا سالانہ 2 ارب ڈالر دیتا ہے اور اُردن تو اسرائیل کے پولیس مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ لبنان کو اُس نے تین حصوں میں بانٹ دیا ہے اور اسرائیل کا یہی مسئلہ ایران کا ساتھ بھی تھا کہ وہ ایران کے پاس کسی قسم کی فوجی طاقت کی موجودگی نہیں دیکھنا چاہتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو اسرائیل کی کوشش تھی کہ یہ جنگ پھیل جائے، اور اُس کے لیے اُس نے کچھ اقدامات بھی اُٹھائے۔ بعض ایسے حملے ہوئے جن کے بارے میں ایران کا کہنا تھا کہ یہ اُس نے نہیں کیے۔

وحید احمد نے کہاکہ اسرائیل چاہتا تھا کہ خطے کے ممالک ایران کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور اُن کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسرائیل کا ہدف تب حاصل ہوتا اگر امریکا ایران میں اپنی زمینی فوج اتار دیا، لیکن گراؤنڈ ٹروپس اتارنے کے لیے صدر ٹرمپ کو جنگ ڈکلیئر کرنا تھی جس کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی تھی لیکن وہ ممکن نہیں تھا۔ اِسی لیے امریکا نے اپنے حملوں کو مختلف آپریشنز کا نام دیا۔

مزید پڑھیں: عالمی توجہ اسلام آباد پر، ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہاکہ ابھی بھی مذاکرات کو ناکام کرنے کے لیے لبنان اسرائیل کا ٹارگٹ ہے۔ اسرائیل کہتا ہے کہ لبنان کی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں، لیکن امریکا اب اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے اور وہ اسرائیل پر اِس حوالے سے پریشر ڈال لے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp