صوبائی حکومت سندھ نے کفایت شعاری اور توانائی بچت پالیسی کے تحت نئے اقدامات نافذ کرتے ہوئے کراچی سمیت صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کو ہفتے بھر رات 9 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں کاروباری سرگرمیاں رات 8 بجے تک محدود رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تبدیلی کی بڑھتی خبریں، اصل معاملہ کیا ہے؟
10 اپریل کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تندور، دودھ اور ڈیری شاپس، بیکریاں، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، کلینکس، ہسپتال اور پیٹرول پمپس اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو رات 7 بجے سے 11:30 بجے تک کھانے کی سروس کی اجازت ہوگی، تاہم ہوم ڈلیوری اور ٹیک اوے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ مزید برآں شادی ہالز اور بینکوئٹس کو رات 8 بجے سے آدھی رات تک کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ اقدامات عالمی سطح پر ایندھن کے بحران کے تناظر میں کیے گئے ہیں، جو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت، جس کی سربراہی وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، نے ملک کے بیشتر حصوں میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم سندھ میں اس حوالے سے تاجروں سے مشاورت جاری تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کاروباری برادری کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد یقین دہانی کرائی تھی کہ مارکیٹ اوقات کا تعین مشاورت سے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کراچی چیمبر آف کامرس سمیت مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے تھے۔











