پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگرچہ اختلافات اور محاذ آرائی عام رہی ہے، تاہم کئی اہم قومی، بین الاقوامی اور سفارتی مواقع پر سیاسی جماعتوں نے حیران کن طور پر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی متحد ہو کر کی، جسے ملکی مفاد کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے موقع پر ایک مرتبہ پھر سے حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کیخلاف پاکستان کی سیاسی جماعتیں متحد، جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر اتفاق
پی ٹی آئی نے جمعرات کو راولپنڈی میں ہونے والا اپنا 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کیا تو جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی جمعہ کو ہونے والے اپنے احتجاج مؤخر کر دیے۔
اس کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز نے بھی اس موقع پر قومی اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔
28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکوں کے موقع پر پاکستان کو شدید عالمی دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کا سامنا تھا، تاہم اُس وقت کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی۔
اس اقدام نے عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی مؤقف کو مضبوط کیا اور ایک واضح پیغام دیا کہ قومی معاملات پر سیاسی قیادت متحد ہے۔
اسی طرح 11 ستمبر 2001 کے نائن الیون حملے کے بعد عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی۔ پاکستان کو امریکا اور اتحادیوں کے ساتھ تعاون یا مخالفت جیسے حساس فیصلے کا سامنا تھا۔
اس موقع پر پرویز مشرف کی قیادت میں پالیسی اختیار کی گئی، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں نے تحفظات کے باوجود مکمل تصادم سے گریز کیا اور عالمی دباؤ کے تناظر میں ایک حد تک ہم آہنگی دکھائی۔
26 نومبر 2008 کے ممبئی حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر پاکستان پر دباؤ بڑھا۔ اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے سفارتی محاذ پر ایک متوازن اور محتاط مؤقف اختیار کیا، جس کا مقصد جنگی صورتحال سے بچنا اور مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا تھا۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک مشترکہ مؤقف اپنایا۔
اس اقدام کے خلاف عالمی فورمز پر آواز اٹھانے، سفارتی مہم تیز کرنے اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس سے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مضبوط انداز میں پیش کیا گیا۔
مزید برآں، 2018 سے 2022 کے دوران فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کو سخت عالمی شرائط کا سامنا رہا۔ اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن نے سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمنٹ میں اہم قانون سازی متفقہ طور پر منظور کی۔
مزید پڑھیں: کچھ عالمی قوتوں کو غلط فہمی ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نہیں، بلاول بھٹو
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی سفارتی کامیابی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جب پاکستان کو عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے تو سیاسی قیادت عموماً اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد میں متحد ہو جاتی ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس اتحاد کو وقتی کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔













