ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس حوالے سے برسوں سے جاری ابہام کو دور کرتے ہوئے ماہرین نے ایک حالیہ بین الاقوامی مطالعے میں مثبت ذہنی صحت کی ایک متفقہ اور جامع تعریف پیش کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
ایڈیلیڈ یونیورسٹی اور بی ویل کو کی قیادت میں ہونے والی اس تاریخی تحقیق میں دنیا بھر کے 122 ماہرین نے حصہ لیا، جس کے نتائج ‘نیچر مینٹل ہیلتھ’ میں شائع ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر تندرست ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان ہر وقت خوش رہے، بلکہ یہ زندگی کو بامعنی بنانے، خود مختار رہنے اور مشکل حالات میں توازن برقرار رکھنے کا نام ہے۔
اس مطالعے نے مثبت ذہنی صحت کی بنیاد چھ اہم عوامل پر رکھی ہے جن میں زندگی کا کوئی واضح مقصد ہونا، اپنی مجموعی زندگی سے اطمینان کا احساس، اور اپنی خوبیوں و خامیوں کے ساتھ خود کو غیر جانبدارانہ طور پر قبول کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ذہنی صحت کے معاملے میں ترقی یافتہ ممالک سے بہتر، لیکن کیسے؟
اس کے علاوہ اپنے فیصلوں پر مکمل کنٹرول یا خود مختاری، دوسروں کے ساتھ گہرے اور بامعنی سماجی تعلقات، اور مزاج میں شگفتگی و خوشی کا عنصر وہ بنیادی اجزاء ہیں جو مل کر ایک انسان کی ذہنی فلاح کا تعین کرتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر میتھیو یاسیلو نے اس حوالے سے واضح کیا کہ مثبت ذہنی صحت محض ایک احساس نہیں بلکہ یہ اس بات کا مجموعہ ہے کہ ہم کیسے کام کرتے ہیں اور دوسروں سے کیسے جڑتے ہیں۔
اس مطالعے کی ایک اہم ترین دریافت یہ بھی ہے کہ ذہنی فلاح کسی بیماری کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک انسان کسی ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے بھی اعلیٰ درجے کا ذہنی سکون اور معیارِ زندگی حاصل کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قیلولہ یا دن کے وقت سونا ذہنی صحت کے لیےکیوں اچھا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ سائنسی بلیو پرنٹ مستقبل میں ایسی حکومتی پالیسیاں بنانے میں مددگار ثابت ہوگا جو صرف بیماری کے علاج تک محدود رہنے کے بجائے انسانوں کو ایک بھرپور اور متوازن زندگی گزارنے کے قابل بنائیں گی۔














