امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس ادارے ایک بڑی کشمکش کا شکار ہیں کہ کس طرح حساس ڈیٹا کے لیک ہونے کے خطرے کے بغیر مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کو اپنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا: بھارتی نژاد سائبر سیکیورٹی چیف نے حساس ڈیٹا لیک کردیا
حالیہ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون اور مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمپنی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے کہ کیا یہ جدید ٹولز خفیہ معلومات کی رازداری برقرار رکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو بہتر کام کرنے کے لیے بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے، لیکن حساس معلومات فراہم کرنا سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اس سیکیورٹی چیلنج نے ایک نئی صنعت کو جنم دیا ہے جس کی موجودہ مالیت تقریباً 2 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ کلاؤڈ اور سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنیاں اب ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہی ہیں جو دفاعی اداروں کو اپنے مخصوص نیٹ ورکس کے اندر رہتے ہوئے ان ٹولز کو استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل انقلاب: اے آئی کلاؤڈ سے ڈیٹا تحفظ اور ملکی خودمختاری کو فروغ ملنے کی توقع
ڈیٹا کی حفاظت کے لیے نئی تکنیکیں سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے کمپنیاں اب ایسی تکنیکیں اپنا رہی ہیں جو ایک ’محفوظ کمرے‘ کی طرح کام کرتی ہیں۔ اس طریقے میں مصنوعی ذہانت کا ماڈل ڈیٹا تک صرف ضرورت کے وقت رسائی حاصل کرتا ہے مگر اسے مستقل طور پر اپنے پاس محفوظ نہیں کرتا۔
اس عمل سے رسائی کے سخت کنٹرول کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور صرف متعلقہ تجزیہ کار ہی اپنے کام کی ضرورت کے مطابق ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں، جس سے معلومات کے افشا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟
محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے کیونکہ بہت زیادہ ڈیٹا سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے جبکہ ڈیٹا کی کمی ان ٹولز کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔
اگرچہ امریکی محکمہ دفاع نے اپنا ایک خصوصی پلیٹ فارم جن اے آئی ڈاٹ مل متعارف کرایا ہے، لیکن فی الحال یہ صرف عام نوعیت کے کام ہی سنبھال رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی خفیہ ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس پر کام جاری ہے۔














