مصنوعی ذہانت کے دور میں معاشی طاقت کو جانچنے کے لیے ایک نیا تصور ’گراس ڈومیسٹک انٹیلیجنس‘ (جی ڈی آئی) توجہ حاصل کر رہا ہے جو روایتی ’گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ‘ (جی ڈی پی) سے آگے بڑھ کر ممالک کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر
یہ تصور مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے پیش کیا ہے جس کے مطابق کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت اب صرف معیشت نہیں بلکہ اس کی مصنوعی ذہانت تک رسائی، کمپیوٹنگ صلاحیت، ڈیٹا سینٹرز اور جدید چِپس پر بھی منحصر ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق جی ڈی آئی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ملک کے پاس کتنی بڑی مقدار میں کمپیوٹنگ طاقت موجود ہے جس میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس، نیٹ ورکنگ سسٹمز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ مورگن اسٹینلے کے مطابق سرمایہ کار مستقبل میں ممالک اور صنعتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے اس پیمانے کو بھی اہم سمجھ سکتے ہیں۔
تحقیقی ادارے ایپوک اے آئی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکا عالمی مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ طاقت کا تقریباً 75 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ چین کا حصہ تقریباً 10 فیصد بتایا جاتا ہے۔ یورپ اور جاپان مل کر باقی حصہ رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: امریکی دفاعی اداروں کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے خفیہ ڈیٹا کی حفاظت کا تجربہ
رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اعداد و شمار میں وہ کمپیوٹنگ طاقت شامل کی گئی ہے جو جدید اے آئی چپس جیسے نظاموں کی کارکردگی سے حاصل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گوگل اس میدان میں برتری رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے تیار کردہ ٹینسر پروسیسنگ یونٹس کے ساتھ ساتھ جدید گرافکس پروسیسرز بھی استعمال کرتا ہے جس سے اس کی کمپیوٹنگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: اعلیٰ تعلیم کے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کرے گی، چیئرمین ایچ ای سی
تحقیقی جائزوں کے مطابق چین کی مجموعی کمپیوٹنگ صلاحیت بعض اندازوں میں مخصوص عالمی نظاموں کے برابر بتائی جاتی ہے تاہم مجموعی طور پر اس وقت عالمی سطح پر اس میدان میں برتری امریکہ کے پاس سمجھی جا رہی ہے۔














