امریکی دفاعی اداروں کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے خفیہ ڈیٹا کی حفاظت کا تجربہ

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس ادارے ایک بڑی کشمکش کا شکار ہیں کہ کس طرح حساس ڈیٹا کے لیک ہونے کے خطرے کے بغیر مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کو اپنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: بھارتی نژاد سائبر سیکیورٹی چیف نے حساس ڈیٹا لیک کردیا

حالیہ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون اور مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمپنی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے کہ کیا یہ جدید ٹولز خفیہ معلومات کی رازداری برقرار رکھ سکتے ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو بہتر کام کرنے کے لیے بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے، لیکن حساس معلومات فراہم کرنا سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس سیکیورٹی چیلنج نے ایک نئی صنعت کو جنم دیا ہے جس کی موجودہ مالیت تقریباً 2 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ کلاؤڈ اور سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنیاں اب ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہی ہیں جو دفاعی اداروں کو اپنے مخصوص نیٹ ورکس کے اندر رہتے ہوئے ان ٹولز کو استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل انقلاب: اے آئی کلاؤڈ سے ڈیٹا تحفظ اور ملکی خودمختاری کو فروغ ملنے کی توقع

ڈیٹا کی حفاظت کے لیے نئی تکنیکیں سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے کمپنیاں اب ایسی تکنیکیں اپنا رہی ہیں جو ایک ’محفوظ کمرے‘ کی طرح کام کرتی ہیں۔ اس طریقے میں مصنوعی ذہانت کا ماڈل ڈیٹا تک صرف ضرورت کے وقت رسائی حاصل کرتا ہے مگر اسے مستقل طور پر اپنے پاس محفوظ نہیں کرتا۔

اس عمل سے رسائی کے سخت کنٹرول کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور صرف متعلقہ تجزیہ کار ہی اپنے کام کی ضرورت کے مطابق ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں، جس سے معلومات کے افشا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟

 محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے کیونکہ بہت زیادہ ڈیٹا سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے جبکہ ڈیٹا کی کمی ان ٹولز کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

اگرچہ امریکی محکمہ دفاع نے اپنا ایک خصوصی پلیٹ فارم جن اے آئی ڈاٹ مل متعارف کرایا ہے، لیکن فی الحال یہ صرف عام نوعیت کے کام ہی سنبھال رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی خفیہ ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس پر کام جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟