امریکا ایران امن مذاکرات پاکستان میں ہوئے۔ ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی رہیں۔ کامیابی اور ناکامی کے اپنے اپنے پیمانے ہیں لیکن یہ بھی کم کارنامہ نہیں کہ دو متحارب فریق جو ایک دوسرے کی تہذیبیں مٹانا چاہتے تھے، مکالمے کی میز پر آ گئے۔ جنگ بندی ہو گئی۔ خونِ مسلم بہنا بند ہو گیا۔ چند دن کو ہی سہی مگر آبنائے ہرمز کھل گئی۔ اسٹاک مارکیٹ پھر سے آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ دنیا میں امن کی باتیں ہونے لگیں۔ جنگی جنون چھٹنے لگا۔ نفرتیں ماند پڑنے لگیں۔ اختلافات ختم ہونے لگے۔ نئے امکانات پر نظر جانے لگی۔
اس ماحول میں پوری دنیا میں امن کے پیغام کے ساتھ پاکستان کا نام لیا گیا۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو کون سا ملک ہے جس نے شہباز شریف کو فون کر کے تہنیت کا پیغام نہیں دیا۔ کون سا بین الاقوامی چینل یا جریدہ ایسا ہے جس نے ’پاکستان کی امن تکون‘ یعنی فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی توصیف نہیں کی۔ ساری دنیا میں امن کے حوالے سے ڈنکا ہمارا بجتا رہا ہے۔ ہر جگہ پاکستان کا نام پہلے لیا جاتا رہا۔ ان دنوں میں دنیا کی ڈکشنری میں امن اور پاکستان ہم معنی ہو گئے۔
اس عالمی شہرت کے شور میں یوں لگتا ہے وہ جماعت کہیں کھو گئی ہے جس کا لیڈر سب کچھ جانتا تھا۔ ہر ملک کو اس ملک کے باسیوں سے بھی بہتر جانتا تھا۔ جس کے مطابق اس ملک میں 12 موسم تھے اور جو اپنے آپ کو ان چنیدہ لوگوں میں سمجھتا تھا جو دنیا میں عوامی فلاح نہیں بلکہ کچھ اور قسم کے عظیم کارنامے سرانجام دینے آئے تھے۔ یہی وہ لیڈر ہے جس نے اپنی مخالف جماعتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ نفرت اور انتقام کو سیاست کا نام دیا۔
یہ وہی گم شدہ جماعت ہے جس نے اس ملک میں گالی کا کلچر رائج کیا تھا۔ جس نے شعور کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا۔ جس نے حقیقی آزادی کے نام پر لوگوں کو ذہنی غلام بنایا۔ جس نے جلاؤ گھیراؤ کو اپنا نظریہ قرار دیا۔ جس نے لانگ مارچ، احتجاج، سڑکوں پر ٹائر جلانے کو اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کو حب الوطنی سے تعبیر کیا۔ جس نے سوشل میڈیا پر گالی دینے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی۔ جس نے اپنے آپ کو ملک و قوم سے بڑا بنا کر پیش کیا۔ جس نے کئی مرحلوں پر اپنے ذاتی سیاسی مفاد کے لیے ملکی مفاد کو آگ لگا دی۔
یہی وہی گم شدہ جماعت ہے جس کا لیڈر امریکا گیا تو جہاز پر، مگر واپس آیا جوتے کی نوک پر۔ جس کے چین کے دورے میں کوئی استقبال کرنے نہیں آیا اور پروٹوکول کے نام پر اسے ایک چھوٹے سے کونے میں بٹھا دیا گیا۔ جس نے روس کا اس دن دورہ کیا جس دن روس نے یوکرائن پر حملہ کیا اور وہ حملہ ہزاروں یوکرائنی مسلمانوں کی شہادت کا موجب بنا۔ اس شخص کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات تو دور کی بات، اگر کوئی سربراہ مملکت اس کے ساتھ مجبوراً تصویر کھنچوا لیتا تو یہ بھی اس کے پرستاروں کے لیے عظیم کارنامہ ہوتا۔
یہ وہی شخص ہے جس نے ساری عمر کرپشن کے خلاف سیاست کی اور اب کرپشن میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر جیل میں ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے ساری عمر میرٹ کی بات کی اور پھر عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ جس نے بتایا کہ اس ملک کو برطانیہ جیسے نظام کی ضرورت ہے اور پھر اس نے برطانیہ میں اپنے یہودی سالے کی الیکشن مہم میں اہم کردار ادا کیا اور ایک مسلمان میئر کی بھرپور مخالفت کی۔
عمران خان بہت بدنصیب آدمی ہے۔ اس نے جس جس کی مخالفت کی وہ بام عروج تک پہنچ گیا۔ جس کو بے عزت کرنے کی مہم شروع کی قدرت نے اسے سرفراز کیا۔ جس کو مٹانے کی کوشش کی وہ امر ہو گیا۔ جس کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اس کا ستارہ آسمان کو چھونے لگا۔ جس کو رسوا کرنے کے لیے چن چن کر گالیاں دلوائی گئیں وہ زیادہ معتبر ہو گیا۔ جس کی دستار پاؤں میں روندی اس کا شملہ اونچا ہو گیا۔ جس نام کو مٹانے کی کوشش کی وہ تابندہ ہو گیا۔
خود دیکھیں۔ عمران خان نے ساری عمر آصف زرداری کے خلاف سیاست کی، آج وہ ملک کے صدر بن چکے ہیں۔ عمران خان نے ساری عمر نواز شریف کی توہین کی، آج انہیں دنیا بھر میں ’کنگ میکر‘ کہا جا رہا ہے۔ عمران خان نے شہباز شریف کو ہمیشہ تضحیک آمیز الفاظ سے پکارا، آج وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ساری دنیا کے سربراہان مملکت ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ عمران خان نے اسحاق ڈار کے خلاف کرپشن کے بلاجواز کیسز کھلوائے، آج دنیا میں ان کی سفارت کاری کا ڈنکا بج رہا ہے۔ عمران خان نے ہمیشہ مریم نواز پر شرمناک جملے کسے، اپنے سوشل میڈیا کی مدد سے ان کی توہین کی، ان کے خلاف غلیظ ٹرینڈز چلوائے، آج وہ سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ اور تو اور عمران خان نے اچکزئی صاحب کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے، سر پر دوپٹہ پہن کر ان کی نقلیں اتاریں، آج وہ شومیٔ قسمت سے انہی کے لیڈر آف اپوزیشن بن چکے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ عمران خان نے بھرپور کوشش کی کہ جنرل عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف نہ بنیں، آج وہ بھارت کے خلاف ایک عظیم فتح حاصل کر کے فیلڈ مارشل کا رتبہ پا چکے ہیں اور دنیا بھر میں ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔
امریکا اور ایران مذاکرات پر تحریک انصاف کا بیانیہ مشکوک حد تک مبہم ہے۔ نہ وہ پاکستان کی اس بے مثال کامیابی کی تعریف کر پا رہے ہیں نہ تنقید کی ان میں جرات ہے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ صورت حال دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ اب اس پارٹی کی عوامی تائید دم توڑ چکی ہے۔ اب اس جماعت کی تنظیم منتشر ہو چکی ہے۔ انقلاب دم توڑ چکا ہے۔ حقیقی آزادی والے اس نعرے سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ اب صرف سوشل میڈیا پر چند گالی دینے والے باقی ہیں، لیکن یاد رکھیں جب کسی جماعت کا نظریہ صرف گالی رہ جائے تو عوام کی نظروں میں اس جماعت کا نام مٹ چکا ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













