پاکستان میں پہلی بار سرکاری سطح پر باقاعدہ میت منتقلی سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے، جسے عوامی خدمت کے ایک نئے سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سروس کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کیا۔
ابتدائی مرحلے میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں سے میت کو مکمل عزت و تکریم کے ساتھ بلامعاوضہ گھر تک منتقل کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق جون تک اس سروس کو مرحلہ وار پنجاب کی ہر تحصیل تک توسیع دی جائے گی، جہاں ہر تحصیل میں خصوصی ایمبولینسز فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں پہلی مرتبہ اسپتالوں سے میتوں کی مفت منتقلی کا آغاز، ایمبولینسز کی منظوری
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے افتتاح کے موقع پر لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے لیے نئی گاڑیوں کی چابیاں ریسکیو حکام کے حوالے کیں اور گاڑیوں کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے ریسکیو اہلکاروں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور سوگ کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑا ہونا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی شہری سے میت منتقلی کے بدلے رقم نہ لی جائے اور اہلکار مکمل خدمت اور جذبۂ انسانیت کے ساتھ فرائض انجام دیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سوگوار خاندانوں کو دلاسہ اور نفسیاتی سہولت فراہم کرنا بھی اس سروس کا حصہ ہونا چاہیے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اس اقدام کو عوامی فلاح کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں یہ سہولت شہروں کی حد تک دستیاب ہوگی، جبکہ دوسرے مرحلے میں اسے مزید وسعت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب حکومت کا ایئر ایمبولینس سروس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا فیصلہ
ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر نے بریفنگ میں بتایا کہ سروس 1122 کے ذریعے 24 گھنٹے دستیاب ہوگی اور ہر اسپتال میں تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے گا۔ نظام کی نگرانی جدید ڈسپیچ اور ریسکیو مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔














