وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن کے ساتھ مزید مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر خزانہ نے پیر کوواشنگٹن میں مینیجنگ ڈائریکٹرآئی ایف سی مختار دیوپ سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اسپرنگ میٹنگز 2026 کے موقع پر ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ کی ورلڈ بینک کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات، اصلاحات اور سماجی تحفظ پر تبادلہ خیال
ملاقات میں پاکستان میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور مؤثر ردعمل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ورلڈ بینک کا پاکستان کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے لیے حمایت کا اعادہ
انہوں نے پاکستان کی ترقی میں آئی ایف سی کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقامی کرنسی میں مالی وسائل کی فراہمی میں ادارے کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے آئی ایف سی کے ساتھ مزید مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
انہوں نے پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹس کو فروغ دینے کے لیے دیگر ممالک کے کامیاب ماڈلز سے استفادہ کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
وزیر خزانہ نے ٹریڈ فائنانس کے شعبے میں آئی ایف سی کی خدمات اوراس کی نئی سرمایہ کاری حکمت عملی کو بھی سراہا، جس کے تحت روایتی بیلنس شیٹ ماڈل سے ہٹ کر ’اوریجنیٹ اینڈ ڈسٹری بیوٹ‘ ماڈل اپنایا جا رہا ہے، جس سے نجی سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالر ملیں گے
مزید برآں، انہوں نے زرعی شعبے میں ترقی اور جدت لانے کے لیے وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے زراعت کے ساتھ آئی ایف سی کے تعاون کی بھی درخواست کی۔
دونوں فریقین نے پاکستان اور آئی ایف سی کے درمیان مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا اور نجی شعبے کی ترقی کے ذریعے پائیدار معاشی نمو کے مشترکہ ہدف پر زور دیا۔












