کینیڈا میں ہونے والے ایک اہم ضمنی انتخاب میں بنگلہ نژاد ڈولی بیگم کی نمایاں کامیابی نے لبرل پارٹی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے ملکی سیاست میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کے وفاقی حلقے اسکاربرو ساؤتھ ویسٹ سے ڈولی بیگم نے ضمنی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی، جس کے نتیجے میں لبرل پارٹی آف کینیڈا کو ایوانِ نمائندگان میں ایک اور نشست مل گئی اور حکومت کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی۔
پیر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں ڈولی بیگم نے 20 ہزار 114 ووٹ حاصل کیے، جو کل ڈالے گئے ووٹوں کا تقریباً 69.9 فیصد بنتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں کنزرویٹو پارٹی کی امیدوار ڈیانا فیلیپووا دوسرے نمبر پر رہیں، جبکہ دیگر امیدوار نمایاں فرق سے پیچھے رہے۔
ڈولی بیگم کی یہ کامیابی، یونیورسٹی روزڈیل سے منتخب ہونے والی لبرل رکن ڈینیئل مارٹن کے ساتھ مل کر، لبرل پارٹی کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت دلانے کا سبب بنی ہے، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی نشستیں 174 ہو گئی ہیں۔
ڈولی بیگم کا فتح کے بعد خطاب
فتح کے بعد خطاب کرتے ہوئے ڈولی بیگم نے کہا کہ یہ صرف ایک انتخابی مہم کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسی کمیونٹی کی جیت ہے جس نے اختلافات کو پس پشت ڈال کر امید، ہمدردی اور ترقی کا انتخاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران انہیں عوام کے مسائل براہِ راست سننے کا موقع ملا، جن میں مہنگائی، بزرگوں کے لیے مشکلات اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے انہیں ایک نیا مینڈیٹ دیا ہے اور وہ ان کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گی۔ انہوں نے بہتر ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کو ترجیح دیں گی۔
ڈولی بیگم اس سے قبل 2018 سے اسی حلقے کی صوبائی رکن اسمبلی کے طور پر نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے خدمات انجام دے رہی تھیں اور اپوزیشن میں نائب رہنما بھی رہ چکی ہیں۔
انہوں نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس نشست پر ضمنی انتخاب لڑیں گی، جو سابق رکن پارلیمنٹ بل بلیئر کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے وزیراعظم مارک کارنی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں تاکہ ہر شہری کو مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
دوسری جانب نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار فاطمہ شبان، جو تیسرے نمبر پر رہیں، نے اپنی انتخابی مہم کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف اور برابری کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔













