اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا گیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی تجدید عارضی طور پر معطل کر دی ہے، جس میں فوجی ساز و سامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی ریسرچ شامل تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز ویروونا میں ایک تقریب کے موقع پر اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں مظالم: اٹلی کے بڑے تجارتی میلے سے اسرائیل کو خارج کر دیا گیا
مذکورہ دفاعی معاہدے کی، جسے 2006 میں اسرائیل نے منظور کیا تھا، ہر 5 سال بعد خودکار طور پر تجدید ہوجاتی تھی، جس کے تحت دفاعی صنعت، فوجی تربیت، تحقیق و ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل تھا۔
Italian PM Meloni suspends automatic renewal of defence agreement with Israel.
Every country should follow Italy 🇮🇹 pic.twitter.com/WL4JMrn0N4
— Suppressed Voices (@supressedvoic) April 14, 2026
میلونی کی دائیں بازو کی حکومت یورپ میں اسرائیل کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی رہی ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں اس نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تنقید کی ہے۔
اس اعلان کے بعد اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حالیہ کشیدگی
گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب اٹلی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی افواج نے لبنان میں تعینات اطالوی امن دستوں کے قافلے پر وارننگ فائرنگ کی۔
اس واقعے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے اٹلی نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا۔
مزید پڑھیں: فلسطین کے حق میں احتجاج، اٹلی پر اسرائیل کے خلاف میچ منسوخ کرنے کا دباؤ
دوسری جانب پیر کے روز اسرائیل نے بھی اٹلی کے سفیر کو طلب کیا، جب نائب اطالوی وزیر اعظم انتونیو تیجانی نے لبنانی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
نائب وزیر اعظم تیجانی، جو پیر کو بیروت میں جوزف عون اور وزیر خارجہ یوسف راغی سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔
بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ لبنان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وہاں گئے تھے۔












