اسٹیٹ بینک کا اہم اقدام، ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ 

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی اور ریگولیٹڈ دائرہ کار میں لانے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل فنانشل سسٹم کے لیے واضح قواعد و ضوابط متعین کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کو ورچوئل اثاثہ سروس پرووائیڈرز (VASPs) کی لائسنسنگ اور نگرانی کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے تحت اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے صرف لائسنس یافتہ وی اے ایس پیز کے ساتھ اکاؤنٹس کھول سکیں گے، جبکہ بینکوں کے لیے ایسے اداروں کی تصدیق اور ریگولیٹری منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس رکھنا لازمی ہوگا اور مختلف رقوم کو آپس میں ملانے  کی سختی سے ممانعت ہوگی۔ ان اکاؤنٹس میں تمام لین دین پاکستانی روپے میں ہوگا جبکہ نقد رقم جمع کروانے یا نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ بینکوں کو وی اے ایس پیز کی مکمل جانچ پڑتال اور مسلسل نگرانی کرنا ہوگی تاکہ ریگولیٹری تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ مشکوک مالی سرگرمیوں کی صورت میں رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو ارسال کرنا لازم ہوگا۔

اس کے علاوہ واضح کیا گیا ہے کہ بینک یا مالی ادارے صارفین کے فنڈز کو ورچوئل اثاثوں میں براہِ راست سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے، اور تمام اداروں کے لیے نئے قواعد پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp