چھٹیوں سے زیادہ سکون کیسے حاصل کریں؟ ماہرین نے خوشگوار سفر کے 4 آسان راز بتا دیے

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں اگست کی تعطیلات کے دوران بہت سے خاندان روزمرہ کی مصروفیات سے دور چند دن سکون اور تفریح کے لیے مری، سوات، ناران کاغان، ہنزہ، گلگت بلتستان اور دیگر سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق صرف چھٹی پر چلے جانا ذہنی تھکن دور کرنے کے لیے کافی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سکون، سادگی اور فطرت کا سنگم: نارڈک ممالک کے سمر کیبن کیوں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں؟

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھٹی کتنے دن کی ہے اس کے مقابلے میں یہ زیادہ اہم ہے کہ انسان دوران سفر خود کو روزمرہ کی پریشانیوں اور کام سے کس حد تک الگ رکھتا ہے۔

ماہرین نفسیات نے ایسے 4 طریقے بتائے ہیں جن کی مدد سے مختصر سفر بھی زیادہ آرام دہ، خوشگوار اور ذہنی طور پر تازہ دم کرنے والا ثابت ہوسکتا ہے۔

مختصر چھٹی بھی ذہنی سکون دے سکتی ہے

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جتنی طویل چھٹی ہوگی اتنا ہی زیادہ ذہنی سکون حاصل ہوگا لیکن 13 مطالعات کے نتائج کے تجزیے میں جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈریسڈن کی فرانزیسکا اسپیتھ اور ان کے ساتھیوں نے پایا کہ چھٹی کی مدت کا ذہنی بحالی پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑتا۔

یعنی ضروری نہیں کہ 2 یا 3 دن کی چھٹی کے مقابلے میں 2 ہفتے کا سفر لازماً زیادہ فائدہ مند ہو۔

اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان دوران چھٹی خود کو روزمرہ کے کام اور پریشانیوں سے کتنا دور رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص مری یا ہنزہ پہنچ کر بھی دفتر کی ای میلز، واٹس ایپ پیغامات اور کام کی مسلسل فکر میں مصروف رہے تو چھٹی کا مقصد بڑی حد تک متاثر ہوسکتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرِ نفسیات ایتھن کراس کے مطابق کام سے ذہنی طور پر دوری انسان کی دوران سفر اور واپسی کے بعد مجموعی ذہنی کیفیت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: بیرونی ممالک سے لوٹنے پر کچھ لوگ لہجہ، لباس اور عادتیں کیوں بدل لیتے ہیں؟

اس لیے چھٹی شروع کرتے وقت صرف دفتر سے جسمانی فاصلہ ہی نہیں بلکہ ذہنی فاصلہ بھی ضروری ہے۔

ایسی جگہ جائیں جہاں اچھی یادیں وابستہ ہوں

ماہرین کے مطابق بعض جگہیں انسان کے ذہن پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ اس تعلق کو نفسیات میں جگہ سے جذباتی وابستگی کہا جاتا ہے۔

کسی مقام سے وابستہ اچھی یادیں انسان کے مزاج کو فوری طور پر بہتر کرسکتی ہیں۔

اس لیے اگر کسی شخص کو مری کا کوئی مخصوص مقام، اپنے آبائی علاقے کی وادی، بچپن کی کوئی جگہ یا سمندر کے کنارے گزارا ہوا وقت ذہنی سکون دیتا ہے تو وہاں دوبارہ جانا کوئی بری بات نہیں۔

تحقیق کے مطابق ماضی کی اچھی یادوں کو تازہ کرنا جسے یاد ماضی کی خوشگوار کیفیت کہا جاسکتا ہے ذہنی صحت اور خوشی کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

یعنی ہر بار نئی جگہ تلاش کرنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی وہی پرانی جگہ جہاں انسان خود کو محفوظ اور پرسکون محسوس کرتا ہے بہترین چھٹی ثابت ہوسکتی ہے۔

حیرت انگیز مناظر پریشانیوں سے ذہن ہٹا سکتے ہیں

چھٹیاں انسان کو روزمرہ کے مسائل سے باہر نکل کر چیزوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے تجربات جن میں انسان کو اپنی ذات کے مقابلے میں دنیا بہت وسیع اور حیرت انگیز محسوس ہو ذہنی سکون میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس کیفیت کو نفسیات میں حیرت و مسرت کا احساس کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: طویل فضائی سفر کے بعد ’جیٹ لیگ‘ جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

مثلاً ہنزہ کے بلند پہاڑ، اسکردو کے وسیع مناظر، ناران کاغان کی وادیاں، سمندر کا وسیع منظر یا کسی تاریخی مقام کی شان و شوکت انسان کی توجہ اپنی روزمرہ پریشانیوں سے ہٹا سکتی ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہر نفسیات ایتھن کراس کے مطابق حیرت کا احساس انسان کی توجہ کا دائرہ وسیع کرتا ہے اور اسے بار بار ایک ہی مسئلے کے بارے میں سوچتے رہنے سے باہر نکال سکتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریائے گرین میں کشتی رانی کرنے والے افراد کا جائزہ لیا گیا۔ حیرت انگیز قدرتی مناظر سے پیدا ہونے والی کیفیت ان کے ذہنی دباؤ میں کمی سے نمایاں طور پر منسلک پائی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے لازمی نہیں کہ آپ فطرت کے دلدادہ ہوں۔ شہر، فن، فن تعمیر اور تاریخی مقامات بھی انسان میں یہی کیفیت پیدا کرسکتے ہیں۔

ہر چیز کو بہترین بنانے کی کوشش نہ کریں

ماہرین نے چھٹیوں کو زیادہ خوشگوار بنانے کے لیے ایک اور دلچسپ مشورہ دیا ہے کہ ہر فیصلہ بہترین بنانے کی کوشش نہ کریں۔

نفسیات میں ایسے افراد جو ہر معاملے میں بہترین ممکنہ انتخاب تلاش کرتے رہتے ہیں، انہیں ‘میکسی مائزرز‘ کہا جاتا ہے جبکہ وہ لوگ جو مناسب اور قابل قبول آپشن ملنے پر فیصلہ کرلیتے ہیں ’سیٹیسفائسرز‘ کہلاتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی خاندان ناران میں ایک دن گزارنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا ہو تو وہ گھنٹوں مختلف مقامات، قیمتوں، کھانے، فاصلے اور آن لائن جائزوں کا موازنہ کرکے بہترین جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چند مناسب آپشن دیکھے جائیں اور جو جگہ زیادہ تر ضروریات پوری کرتی ہو اسے منتخب کرکے آگے بڑھا جائے۔

تحقیق میں ایسے افراد جو ہر فیصلے کو بہترین بنانے کی کوشش کرتے تھے اکثر اپنی چھٹیوں سے کم مطمئن پائے گئے کیونکہ وہ بہت زیادہ منصوبہ بندی کرتے تھے اور بعد میں بھی یہ سوچتے رہتے تھے کہ شاید کوئی دوسرا انتخاب زیادہ اچھا ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے: چین کا ’اسکائی آئی‘ سائنسی منصوبہ، دور افتادہ گاؤں سیاحت اور ترقی کا نیا مرکز بن گیا

نیدرلینڈز کی بریڈا یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے ماہر نفسیات اوندرے میتاس کے مطابق جب لوگ بہترین انتخاب کی کوشش کرتے ہیں تو بعض اوقات وہ الٹا کم خوش اور کم مطمئن ہوجاتے ہیں۔

البتہ محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ مختلف معاشروں میں اس رجحان کے نتائج مختلف ہوسکتے ہیں اس لیے اسے ہر شخص پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

چھٹی کا اصل مقصد کیا ہے؟

ماہرین کی تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اچھی چھٹی کے لیے لازماً مہنگا سفر، طویل تعطیلات یا انتہائی مصروف پروگرام ضروری نہیں۔

کبھی چند دن کا مختصر سفر بھی ذہنی طور پر بہت فائدہ دے سکتا ہے بشرطیکہ انسان واقعی اپنے روزمرہ کے کام سے کچھ وقت کے لیے دور ہوجائے۔

اپنی پسندیدہ جگہ پر سکون کے چند لمحات گزارنا، کسی شاندار منظر کو دیکھنا، موبائل اور دفتری پیغامات سے کچھ دیر دور رہنا اور ہر لمحے کو پہلے سے طے کرنے کے بجائے کچھ گنجائش غیر متوقع تجربات کے لیے چھوڑ دینا چھٹی کو زیادہ یادگار بنا سکتا ہے۔

تحقیق سے ایک اور اہم بات سامنے آتی ہے کہ چھٹی ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات اس وقت زیادہ محسوس ہوسکتے ہیں جب دوران سفر انسان نے واقعی ذہنی طور پر خود کو روزمرہ کی زندگی سے الگ کیا ہو۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں سیاحت کا فروغ: کوٹلی ستیاں کے دلچسپ مقام چیوڑہ بیس پر جدید اور ماحول دوست ریزورٹ قائم

لہٰذا اگلی بار جب آپ مری، سوات، ہنزہ، اسکردو یا کسی اور مقام کی طرف روانہ ہوں تو شاید بہترین چھٹی کا راز زیادہ چیزیں دیکھنے میں نہیں بلکہ کچھ دیر کے لیے اپنی روزمرہ کی فکروں کو پیچھے چھوڑ دینے میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp