اسپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور کی عدالت میں ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کلینک چلانے کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے ان کی عبوری ضمانت میں 20 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے گرفتاری سے بھی روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر فضیلہ عباسی کیس: بھائی حمزہ علی عباسی نے لاتعلقی کا اعلان کردیا
ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی اور حمزہ علی عباسی کا مشترکہ (جوائنٹ) بینک اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کیس کے تحت منجمد کرایا جا چکا ہے جبکہ مقدمے کا چالان بھی عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمہ کے خلاف 2 مقدمات درج ہیں اور تفتیش جاری ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے تحریری جواب جمع کرایا ہے تاہم وہ ذاتی طور پر عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔ اس پر پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ مسلسل پیش نہیں ہو رہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے وکیل نعیم بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکلہ متعدد بار پیش ہو چکی ہیں اور عدالت نے ضمانت کے غلط استعمال کے تاثر پر عبوری ضمانت خارج کی تھی، تاہم ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ضمانت کے غلط استعمال کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ وکیل کے مطابق کیس میں 3 ماہ سے عبوری ضمانت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس: لاکھوں ڈالر بیرون ملک منتقل ہونے کا انکشاف
سماعت کے دوران جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق ملزمہ کو شاملِ تفتیش ہونا ہوگا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی آج ہی تفتیش میں شامل ہوں اور آئندہ سماعت تک تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کر دی۔














