پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کے خاتمے اور مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مستقل اراکین کی تعداد میں کسی بھی اضافے کی سخت مخالفت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیر مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے تاکہ ویٹو پاور کے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:پاک سعودی دفاعی معاہدہ شدت پسندانہ کارروائیوں کے تناظر میں علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے، عاصم افتخار احمد

انہوں نے کہا کہ منتخب اراکین کی تعداد بڑھانے سے طاقت کا توازن مستقل اراکین کے حق میں جھکاؤ کم ہوگا۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل میں اہم عالمی معاملات پر تعطل کی بڑی وجہ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کا غلط یا بے جا استعمال ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ ویٹو پاور میں توسیع یا نئے مستقل اراکین کو یہ اختیار دینا مسائل کو مزید بڑھائے گا، اس لیے پاکستان اس کی اصولی طور پر مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل اصلاحات پر باضابطہ مذاکرات 2009 سے جاری ہیں، جن میں رکنیت کی اقسام، ویٹو پاور، علاقائی نمائندگی، کونسل کے حجم اور اس کے طریقہ کار جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم ’یونائٹنگ فار کنسینسس‘ گروپ مستقل نشستوں میں اضافے کے خلاف ہے، جبکہ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل G-4 گروپ مستقل نشستوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

متبادل تجویز کے طور پر یونائٹنگ فار کنسینسس گروپ نے طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی نشستوں کا نیا ماڈل پیش کیا ہے، جس میں دوبارہ انتخاب کی گنجائش بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ویٹو پاور آج کے دور میں ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مضبوط رائے موجود ہے، اس کے باوجود اس اختیار کو بڑھانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں، جو ایک تضاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور ویٹو پاور سمیت تمام معاملات کو ایک ساتھ حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں