سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے واضح کیا ہے کہ 2026 کے حج کے لیے صرف سرکاری اجازت نامہ رکھنے والے افراد کو ہی مناسک ادا کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ بغیر پرمٹ حج کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام حج مشنز اور لائسنس یافتہ سروس فراہم کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ عازمین مقررہ اجازت نامہ حاصل کریں اور تمام منظور شدہ ضوابط پر مکمل عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن 2026 شروع، 55 ہزار سے زائد عازمین کے لیے خصوصی پروازیں
بیان میں زور دیا گیا کہ حج صرف ان افراد کے لیے مخصوص ہے جن کے پاس باقاعدہ پرمٹ موجود ہو، اور غیر مجاز کوششوں پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
سعودی حکام کے مطابق پرمٹ نظام ہر سال مکہ مکرمہ آنے والے لاکھوں زائرین کے ہجوم کو منظم کرنے، سیکیورٹی بہتر بنانے اور مقدس مقامات پر سہولت فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 16 لاکھ 73 ہزار 230 افراد نے حج ادا کیا، جن میں 1 لاکھ 66 ہزار 654 مقامی جبکہ 15 لاکھ 6 ہزار 576 بیرون ملک سے آئے تھے۔
وزارت نے کہا ہے کہ 2026 کے حج کے لیے ابتدائی مرحلے میں ہی رجسٹریشن اور منصوبہ بندی شروع ہو چکی ہے، جبکہ مختلف ممالک کے حج مشنز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے انتظامات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جرمانے، ملک بدری اور 10 سال پابندی، حج قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا اعلان
سعودی حکام کے مطابق پرمٹ سسٹم پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے منیٰ اور عرفات جیسے اہم مقامات پر رش کم کرنے اور زائرین کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں حج انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اور جدید ڈیجیٹل نظام پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے تاکہ روحانی سفر کے ساتھ حفاظت اور سہولت کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔













