ایسٹر تہوار کے پچاس دن بعد یعنی ساتویں اتوار کو ماسکو میں واقع نجات دہندہ مسیح کا کیتھیڈرل راسخ العقیدہ مسیحی نعروں اور دعاؤں سے گونج اٹھتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں عبادت گزار اس موقع پر موجود ہیں۔
لیکن ان میں بیشترعبادت گزار یہاں آرٹ کا ایک 600 سال پرانا نایاب شاہکار بھی دیکھنے کے متمنی ہیں جسے نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ راسخ العقیدہ مسیحی برادری کا ایک قدیم نشانی جو روس میں عیسائیوں کے ورثہ کے حوالے سے سب سے قیمتی متاع تصور کی جاتی ہے۔
قرون وسطی کے فنکار آندرے روبلیو کی تخلیق کردہ اس پینٹنگ کو ’مقدس تثلیث‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک صدی سے یہ پینٹنگ ایک ماسکو کے ایک سرکاری عجائب گھر کی گیلری میں نازک آبگینہ کی طرح محفوظ رکھی گئی ہے۔ جسے نہ صرف درجہ حرارت اور نمی کے حساب سے کنٹرول بلکہ مسلسل آرٹ ورک کی بحالی کے لیے مختص ماہرین کی خدمات حاصل رہی ہیں۔

لیکن کریملن نے اس آئیکن کو میوزیم کی گیلری سے حال ہی میں روسی آرتھوڈوکس چرچ منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس پر چرچ کے سربراہ پیٹری آرک کیرل بہت خوش ہیں۔
اس نے ہفتے کے اختتام پر چرچ میں عبادت گزاروں کو بتایا کہ یہ آئیکن چرچ میں ایک ایسے وقت میں واپس آیا ہے جب مادر وطن کو بڑے پیمانے پر دشمن قوتوں کا سامنا ہے۔

’یہ (پینٹنگ) واپس (چرچ) آئی ہے تاکہ ہم خدا سے اپنے ملک کی مدد اور اپنے اورتھوڈوکس صدر ولادیمیر پوتن کے لیے دعا کر سکیں، جنہوں نے یہ آئیکن واپس دینے کا فیصلہ کیا۔‘
یقیناً پادریوں کے لیے یہ ایک پر مسرت موقع ہے لیکن آئیکن کی چرچ منتقلی نے تنازعہ کو جنم دیا ہے۔
روس کے سب سے مشہور آرٹ مورخین میں سے ایک ماہرین کے اس گروپ کا حصہ تھا جس نے ٹریٹیاکوف گیلری سے آئیکن کی منتقل کے خلاف مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ منتقلی کے نتیجے میں بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔
’یہ فیصلہ کسی کی ذاتی خواہش تھی۔ ٹریتیاکوف گیلری کی بحالی کونسل واضح طور پر اس کی کہیں اور منتقلی کے خلاف تھی۔ میوزیم میں آئیکن ایک طرح کی انتہائی نگہداشت میں ایک شخص کی طرح تھا، جہاں ماہرین کے ایک ٹیم جدید ترین آلات سے کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرتے ہوئے اسے اس کی اصلی حالت میں برقرار رکھے ہوئے تھے۔‘
روسی آرٹ مورخ کے مطابق یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ برسر اقتدار طبقہ آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے اور غیبی مدد کی امید کر رہے ہیں۔














