اسلام آباد مذاکرات: پاکستان میں غیر ملکی سیاحت کا گراف بلند

اتوار 19 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایران امریکا امن مذاکرات اور ثالثی پر پوری دنیا میں پاکستان کی تعریف کی جارہی ہے، جس سے پاکستان کا امیج بہت بہتر ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیگر شعبوں کے ساتھ سیاحت پر بھی مثبت اثر پڑنے کی توقع ہے۔

پاکستان میں سیاحت سے وابستہ افراد اسلام آباد مذاکرات کو سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں، جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا ایک مثبت تشخص ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ مذاکرات کی کوریج کے لیے بین الاقوامی صحافی بھی آئے، جنہوں نے پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور سری لنکا کا ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق، مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کا عزم

سیاحت میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے

سیاحت سے وابستہ افراد کے مطابق ایران امریکا جنگ کے خدشات سے پاکستان میں سیاحت متاثر ہوئی تھی، اور پروازوں میں خلل کے باعث غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں کمی آئی، تاہم اب امن مذاکرات کے بعد بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

کلیم اللہ کی اپنی ٹورازم ایجنسی ہے اور وہ بطور ٹور گائیڈ بھی کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک میں سیاحت کا دارومدار امن پر ہوتا ہے، اور جہاں امن ہوگا وہاں سیاحت کو فروغ ملے گا۔

کلیم اللہ نے بتایا کہ جنگ زدہ افغانستان کے ساتھ ہمسایہ ہونے کے باعث پاکستان پر دہشتگردی کا ایک منفی تاثر قائم تھا، جبکہ ایران میں کشیدگی کے اثرات بھی پڑے تھے، لیکن اب صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد سیاحت میں واضح بہتری آئی ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد مذاکرات سے دنیا بھر میں پاکستان کا ایک مثبت امیج بنا ہے، جو ایک امن کے داعی اور ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اس سے دہشتگردی سے متعلق منفی تاثر بھی کم ہوا ہے۔

کلیم اللہ نے مزید کہاکہ اگر ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس کے پاکستان کی سیاحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس شعبے کو نمایاں فروغ ملے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سیاحت میں ہر ایک کے لیے کشش موجود ہے، چاہے وہ تاریخی مقامات ہوں، مذہبی سیاحت، ثقافت، کھانے یا یہاں کے مہمان نواز لوگ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں غیر ملکی سیاح پاکستان آتے ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات کا بہت مثبت اثر ہوگا

شاہد علی خان، جو پشاور کے معروف ٹور گائیڈ ہیں، کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کا انعقاد سیاحت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس کے مستقبل میں بھی مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔

شاہد علی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران سوشل میڈیا پر پاکستان کا نام نمایاں رہا اور اس کے ساتھ امن کا پیغام جڑا رہا، جس سے پاکستان کا مثبت امیج مزید مضبوط ہوا۔

انہوں نے کہاکہ اس دوران پاکستانی کھانوں کی بھی بھرپور تشہیر ہوئی، اور فوڈ ٹورازم بھی سیاحت کا ایک اہم حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر ممالک کو دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے روایتی کھانوں کے ذریعے سیاحت کو بہت فروغ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں سیاحت سے 21 ارب ڈالر کی آمدنی، مزید اضافے کی توقع

شاہد علی کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستان کی خوبصورتی بھی دنیا کو دکھائی گئی، جس کے بعد سیاحوں کی آمد میں اضافے کی امید بڑھ گئی ہے۔

پاکستان میں سالانہ ایک سے 2 ملین کے درمیان غیر ملکی سیاح آتے ہیں، اور اب ایران امریکا جنگ بندی اور پاکستان کے مثبت کردار کے بعد مزید سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp