نائجیریا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا مقصد افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک نائجیریا کو 17 سال سے جاری شورش کے خلاف مدد فراہم کرنا ہے۔
نائجیریا کے وزیر دفاع کرسٹوفر موسیٰ نے ہفتے کے روز بتایا کہ دونوں ممالک نے تربیت، مشترکہ پیداوار اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے ترک میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نائجیریا کی فوج کے اسپیشل فورسز کے 200 اہلکار تربیت کے لیے ترکیہ بھیجے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: نائجیریا: کان میں کاربن مونو آکسائیڈ پھیلنے سے 37 کان کن ہلاک، 25 زخمی
نائجیریا کو کئی برسوں سے سنگین سیکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔ ملک کے شمال مشرق میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام اور اس سے الگ ہونے والے گروہ اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ صوبہ سرگرم ہیں۔
اس کے علاوہ شمال مغربی علاقوں میں مسلح جرائم پیشہ گروہ، جنہیں ڈاکو کہا جاتا ہے، لوٹ مار، اغوا اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ نائجیریا کو ساحل خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا بھی سامنا ہے، جہاں شدت پسند گروہوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نائجیریا میں مسلح گروہوں کا خونریز حملہ، 30 سے زائد افراد ہلاک
حکام کے مطابق نائجیریا اپنی دفاعی ضروریات کے لیے صرف امریکہ پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت نئے شراکت داروں کی تلاش جاری ہے۔
یہ پیش رفت نائجیریا کے صدر بولا تینوبو کے جنوری میں ترکیہ کے دورے کے بعد سامنے آئی ہے، جو گزشتہ نو برسوں میں کسی نائجیرین سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ تھا۔
ترکیہ سستے اور مؤثر مسلح ڈرونز کی تیاری کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے، جبکہ نائجیریا نے مشترکہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔













