امریکی خلائی کمپنی بلیو اوریجن اتوار کے روز اپنی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے جا رہی ہے، جب وہ پہلی بار اپنے بڑے نیو گلین راکٹ کو دوبارہ استعمال ہونے والے بوسٹر کے ساتھ خلا میں بھیجے گی۔ یہ پیشرفت نہ صرف کمپنی کے تکنیکی سفر میں اہم سنگ میل ہے بلکہ خلائی صنعت میں بڑھتی ہوئی مسابقت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
یہ لانچ فلوریڈا کے کیپ کیناورل میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوگی، جہاں سے نیو گلین راکٹ تقریباً 100 میٹر بلند ہو کر پرواز کرے گا۔ اس مشن میں اے ایس ٹی اسپیس موبائل کمپنی کا ایک مواصلاتی سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجا جائے گا۔ لانچ کا وقت مقامی وقت کے مطابق صبح 6:45 سے 8:45 کے درمیان رکھا گیا ہے۔
Blue Origin set to launch rocket with reusable booster for first time https://t.co/DnBbvfWH73 pic.twitter.com/EmnrNQv6qN
— Arab News (@arabnews) April 19, 2026
یہ پہلی بار ہوگا کہ بلیو اوریجن اپنے نیو گلین راکٹ کے بوسٹر کو دوبارہ استعمال کرے گی۔ اس سے قبل کمپنی نے صرف نئے بوسٹرز کے ساتھ یہ راکٹ لانچ کیا تھا۔ نومبر میں کمپنی نے پہلی بار بوسٹر کو کامیابی سے واپس زمین پر اتارا تھا، جو بحر اوقیانوس میں ایک عمودی لینڈنگ کے ذریعے ممکن ہوا۔
یاد رہے کہ جنوری 2025 میں ایک ابتدائی کوشش اس وقت ناکام ہوگئی تھی جب نزول کے دوران انجن دوبارہ فعال نہ ہو سکے۔ اس بار استعمال ہونے والا بوسٹر پہلے کی پرواز کے بعد دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی نے اس کے تمام انجن تبدیل کیے ہیں اور دیگر تکنیکی بہتریاں بھی کی ہیں تاکہ محفوظ لینڈنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔
لانچ کے بعد راکٹ کے دو حصے الگ ہو جائیں گے۔ اوپری حصہ سیٹلائٹ کو خلا کی جانب لے جائے گا، جبکہ بوسٹر واپس زمین کی طرف آئے گا اور سمندر میں موجود پلیٹ فارم پر لینڈ کرنے کی کوشش کرے گا۔
Blue Origin is set to reuse a booster for the first time in the launch of its massive New Glenn rocket, a milestone for the US space company founded by Amazon's Jeff Bezos. pic.twitter.com/wSdbnoY2ET
— Pakistan TV Digital (@PakistanTVcom) April 19, 2026
یہ مشن بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس کے لیے نہایت اہم ہے، جو خلا کی صنعت میں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ سخت مقابلے میں ہیں۔ دونوں کمپنیاں ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر انسانوں کی واپسی کے منصوبوں میں بھی شامل ہیں۔
امریکا کا ہدف ہے کہ 2028 تک دوبارہ خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اتارا جائے، جو نہ صرف سائنسی بلکہ عالمی خلائی دوڑ میں بھی ایک اہم قدم ہوگا۔












