مزید پڑھیں: ’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال
انہوں نے کہاکہ مذاکرات ہورہے ہیں کوئی کھیل نہیں ہو رہا، ہم ایران میں صحیح ڈیل کررہے ہیں، اگر ایرانی قیادت مجھ سے ملاقات کرنا چاہتی ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ ہوں گے۔
قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک نہیں ہوں گے تاہم پاکستان اس کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان رابطے اور کوششیں کر رہا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ روز سے جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قیامِ امن کے لیے پاکستان اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: ایرانی کارگو جہاز پر امریکی کارروائی، سینٹکام نے قبضے اور حملے کی ویڈیو جاری کر دی
تازہ ترین صورتحال سے باخبر ایک عہدیدار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ مُشکلات کی وجہ صدر ٹرمپ کا روّیہ ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کی اور سیز فائر کی خلاف ورزیاں بھی کیں۔ لیکن پاکستان اپنے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اُمید ہے کہ آج رات یا کل صبح تک چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔
پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں اور وہ فریقین سے رابطوں میں ہے اور مسئلے کے حل کے لیے بھرپور سفارتی اقدامات کر رہا ہے۔
ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جو معاہدہ کررہے ہیں وہ ماضی کے معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ ہم امریکا کو کسی ایسے معاہدے میں نہیں دھکیلیں گے جو کمزور ہو یا نامکمل ہو۔ اگر ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ باراک اوباما اور جوبائیڈن کی جانب سے تحریر کیا جانے والا معاہدہ ملکی سلامتی کے حوالے سے اب تک کے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔ یہ دراصل ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک یقینی راستہ تھا، جو ہمارے موجودہ معاہدے میں نہ ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے مثبت انداز میں غور
ایک ایرانی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے مثبت غور و فکر کر رہا ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کرانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جسے ایران کی امن عمل میں واپسی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو میں ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران اس معاملے کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے، لیکن فی الحال کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا۔
وزیراعظم کو یورپی کونسل کے صدر کا ٹیلیفون، خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ٹیلیفون کیا ہے۔
I received a call from H.E. António Costa, President of the European Council, this evening.
During our cordial exchange, I shared with President Costa, updates on Pakistan’s ongoing diplomatic outreach and peace efforts in the Middle East.
Grateful for the European Union’s…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 20, 2026
وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے صدر کوسٹا کے ساتھ پاکستان کی خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
صدر کوسٹا نے خطے میں مذاکرات اور استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ یورپی یونین اس عمل کی ہر ممکن حمایت کے لیے تیار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دیرپا علاقائی اور عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس حوالے سے دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔
ایران اور پاکستان کے سفارتی رابطے تیز، جنگ بندی پر مشاورت جاری
وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
FM @araghchi of Iran and Pakistan’s Deputy PM & FM @MIshaqDar50 held a phone call to discuss regional developments and ceasefire-related issues, exchanging views on ongoing coordination. #Iran #Pakistan #Diplomacy pic.twitter.com/qGqSapKy3X
— Government of the Islamic Republic of Iran (@Iran_GOV) April 20, 2026
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جاری علاقائی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی اور جنگ بندی سے متعلق معاملات میں باہمی رابطوں اور تعاون کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
مذاکرات میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں، ایران
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا پر اعتماد نہیں کر سکتا کیونکہ واشنگٹن اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر اصرار کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور ایران نے اس صورتحال سے پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا اور موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ رہا اور اس کی پالیسیوں میں کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آ رہی، جس کے نتائج خطے کے لیے مزید نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت واشنگٹن کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
🇮🇷BREAKING: Iran’s FM Spox Esmail Baghaei:
We do not see serious signs of America's determination for diplomacy / There is no trust in negotiations with the US
🔹The spokesperson of the Ministry of Foreign Affairs, in response to the question, "You announced that no decision… pic.twitter.com/feIpgtIZqc
— Suppressed News. (@SuppressedNws1) April 20, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا ایران بھرپور جواب دے گا اور ایرانی افواج کسی بھی احمقانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران میں مبینہ جنگی جرائم پر یورپی ممالک نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔
ترجمان نے کہا کہ روس اور چین کے ذمہ دارانہ موقف پر ایران ان کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو مبینہ جنگی جرائم پر جوابدہ بنانا عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔
محسن نقوی کا امریکی سفارتخانے کا دورہ
اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکا کے سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے فروغ، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات بھی گفتگو کا اہم حصہ رہے۔ امریکی سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات،ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات کے فروغ اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لئے کئے گئے سکیورٹی انتظامات پر بات چیت pic.twitter.com/K3HdUz3Cz4
— WE News (@WENewsPk) April 20, 2026
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ تمام غیر ملکی مہمانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے تمام خاص مہمانوں کے لیے فول پروف سکیورٹی یقینی بنا رہا ہے اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
ایرانی کارگو جہاز امریکا کی تحویل میں
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک ایرانی کارگو جہاز کے خلاف کارروائی کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس میں امریکی میرینز کو جہاز پر قبضہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ جہاز اب امریکی تحویل میں ہے۔
مزید پڑھیں:ایران کے پاس آخری موقع، اوباما دور جیسی غلطی کو نہیں دہرائیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق ’ایم وی توسکا‘ نامی کنٹینر شپ ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے، اور کارروائی سے قبل اس کی رفتار انتہائی کم، قریباً 1.2 ناٹس ریکارڈ کی گئی تھی۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 19, 2026
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی جہاز کو روک کر اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
ریڈ زون میں داخلہ بند
وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع تمام سرکاری دفاتر کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے آج پیر 20 اپریل 2026 کو ورک فرام ہوم کا اعلان کر دیا ہے۔
کابینہ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون میں قائم تمام وزارتیں، ڈویژنز اور دیگر وفاقی ادارے آج گھر سے کام کریں گے جبکہ اس دوران ریڈ زون میں داخلہ بھی بند رہے گا۔
اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے پیش نظر جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اڈوں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑی گاڑیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مزید تفصیلات… pic.twitter.com/PCqLf1iips— WE News (@WENewsPk) April 19, 2026
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران اور سیکرٹریٹ اسٹاف اپنے اسٹیشن پر موجود رہیں اور ضرورت پڑنے پر مختصر نوٹس پر دفتر پہنچنے کے لیے تیار رہیں۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ انتظامی ضروریات اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ریڈ زون میں غیر ضروری آمد و رفت کو محدود رکھا جا سکے۔
اسلام آباد میں ایران۔امریکا مذاکرات کے پیش نظر سخت سیکیورٹی انتظامات! ریڈ زون میں داخلے پر مکمل پابندی عائد۔
ایرانی وفد کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کر رہے ہیں لقمان شاہ، اس رپورٹ میں pic.twitter.com/VQjdFRjD3W— WE News (@WENewsPk) April 20, 2026
اس کے علاوہ، ترجمان اسلام آباد پولیس نے شہریوں کے لیے لائسنسنگ سہولیات سے متعلق اہم ایڈوائزری جاری کر دی۔
ترجمان کے مطابق 20 اپریل 2026 سے تاحکم ثانی بعض پولیس خدمت مراکز میں لائسنسنگ سہولیات معمول کے مطابق جاری رہیں گی، جبکہ بعض مراکز میں یہ سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
جاری اعلامیے کے مطابق پولیس خدمت مرکز ایف-6، پولیس خدمت مرکز گلبرگ گرین اور کیس کیڈ ڈپلومیٹک انکلیو میں لائسنسنگ سے متعلق تمام سہولیات بدستور دستیاب رہیں گی۔
اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے پیش نظر جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اڈوں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑی گاڑیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مزید تفصیلات… pic.twitter.com/PCqLf1iips— WE News (@WENewsPk) April 19, 2026
امریکا ایران مذاکرات: امریکی سیکیورٹی ٹیم کے خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے
پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی ایڈوانس سیکیورٹی ٹیم کے 6 خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ طیارے نور خان ایئربیس پر لینڈ کرگئے ہیں۔
امریکہ کی ایک ٹیم نور خان ائیر بیس پہنچ گئی.
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) April 19, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی طیاروں کے ذریعے آنے والی امریکی ایڈوانس سیکیورٹی ٹیم اپنے ہمراہ لاجسٹک سامان اور متعدد گاڑیاں بھی لائی ہے، جو آئندہ مذاکراتی عمل کے دوران استعمال میں لائی جائیں گی۔
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور: جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے والے وفد کی قیادت کریں گے۔
Update: Vice President Vance will also join, leading the delegation from the US, a White House official tells me.
Things change very fast in diplomacy. https://t.co/lsW0lsYCje
— Caitlin Doornbos (@CaitlinDoornbos) April 19, 2026
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس اسلام آباد جانے والے وفد کی قیادت کریں گے، اور ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکراتی عمل میں شریک ہوں گے۔
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
قریباً 45 منٹ جاری رہنے والی اس خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
غیرملکی وفود کی آمد کے پیش نظر راولپنڈی اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جس کی اب امریکی صدر نے بھی تصدیق کردی ہے۔ غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر جڑواں شہروں میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ متبادل ٹریفک پلان جاری کرنے کے ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس سمیت ہر قسم کی پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ بھی معطل کردی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اسلام آباد میں ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا جبکہ کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے کو بھی بند رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک کو روکا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد میں کسی بھی سمت سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان دنوں میں شہر کا رخ نہ کریں۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق شہر میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور یہ پابندی تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔ شہریوں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی بھی نئی پیش رفت سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیے گئے ہیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز اور انتظامیہ سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی نئی تجاویز ایران کو موصول، مذاکرات میں پیشرفت مگر حتمی معاہدہ تاحال دور ہے، باقر قالیباف
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ضلعی انتظامیہ نے پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ کو تاحکمِ ثانی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ ہے۔
شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل ٹریفک پلان کے تحت جی 5، جی 6، جی 7، ایف 6 اور ایف 7 کے رہائشی راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ سے نائنتھ ایونیو استعمال کریں گے جبکہ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک کو بھی نائنتھ ایونیو کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

زیرو پوائنٹ سے کورال چوک بند ہونے کی صورت میں شہری سری نگر ہائی وے سے نائنتھ ایونیو کے ذریعے اسٹیڈیم روڈ، مری روڈ، چاندنی چوک اور راول روڈ استعمال کرتے ہوئے کورال جا سکیں گے، جبکہ پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے پر ٹریفک کو ترامڑی چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور جاری کردہ ہدایات پر مکمل عملدرآمد کریں۔ حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور حالات کے مطابق مزید فیصلے کیے جائیں گے۔













