امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹارنی جنرل پم بونڈی کی برطرفی کے بعد ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل سے متعلق بھی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ کیا وہ بھی اگلے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کاش پٹیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جرائم کی شرح گزشتہ 100 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرل فرینڈ کی حفاظت کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال، ایف بی آئی سربراہ کاش پٹیل تنقید کی زد میں
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈائریکٹر پٹیل انتظامیہ کی قانون اور نظم و ضبط سے متعلق ٹیم کا ایک اہم حصہ ہیں’۔
دوسری جانب بعض موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر پہلے ہی اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ کاش پٹیل کی جگہ کون لے سکتا ہے۔ ایک اہلکار نے مبینہ طور پر کہا: ‘ہم سب صرف اگلے حکم کے انتظار میں ہیں’۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایک میڈیا ادارے کی رپورٹ کے مطابق کاش پٹیل پر ذاتی نوعیت کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، جن میں شراب نوشی سے متعلق دعوے اور بعض میٹنگز میں تاخیر جیسے الزامات شامل ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے: سربراہ ایف بی آئی کاش پٹیل کی گرل فرینڈ کا پوڈکاسٹر کیخلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ
ان الزامات کے جواب میں کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ‘بات کرتے رہیں، اس کا مطلب ہے میں وہی کر رہا ہوں جو مجھے کرنا چاہیے’۔
واضح رہے کہ پم بونڈی کی برطرفی کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ کے اندر تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے کاش پٹیل کے مستقبل سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔














