پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان کی رہائی کے لیے خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں جلسہ کیا، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مردان کے لیے 50 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ تاہم کارکنان نے ڈی چوک کے نعروں سے سہیل آفریدی کا استقبال کیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 9 اپریل کو جلسے کا اعلان کیا تھا، لیکن اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کی وجہ سے پی ٹی آئی نے جلسہ ملتوی کردیا اور آج مردان میں جلسہ کیا۔
ڈی چوک کے نعرے
مردان جلسے کے تمام تر انتظامات وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود دیکھ رہے تھے اور تمام منتخب نمائندوں کو زیادہ سے زیادہ کارکنان نکالنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شام 4 بجے کے قریب جلسہ گاہ پہنچے، جہاں صوبے بھر سے کارکن آئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی وہ جلسہ گاہ پہنچے، کارکنان نے نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ کارکنان ان کے حق میں بھی نعرے لگا رہے تھے جبکہ ان کے خلاف بھی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔
جب وزیراعلیٰ تقریر کے لیے آئے تو جلسہ گاہ سے ڈی چوک کے نعرے لگنا شروع ہو گئے۔ کارکنان سہیل آفریدی سے اٹک کے اس پار جلسے کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔
جلسہ کتنا بڑا تھا؟
سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع میں جلسے کر چکے ہیں اور عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا، تاہم کافی عرصہ گزرنے کے باوجود اٹک سے اس پار جلسہ نہ کرنے پر انہیں پارٹی کے اندر تنقید کا سامنا ہے۔
مردان جلسہ راولپنڈی کے متبادل کے طور پر کیا گیا تھا اور امید کی جا رہی تھی کہ بڑی تعداد میں کارکن آئیں گے، لیکن صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود پی ٹی آئی اپنے دعوؤں کے مطابق لوگ نہ نکال سکی۔
پرویز خان مردان کے سینیئر صحافی ہیں اور آج بھی جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی سرگرمی ضرور کی، لیکن جلسہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے بھی ماضی میں اسی مقام پر جلسے کیے، اور وہ بہت بڑے تھے، لیکن آج کا جلسہ اس کے مقابلے میں کمزور تھا۔
پرویز خان کے مطابق مردان میں پی ٹی آئی کے اندر اختلافات موجود ہیں اور کارکنان ناراض ہیں، جبکہ جلسے میں مردان کی نسبت دیگر اضلاع سے زیادہ لوگ آئے تھے۔
مجھے بالکل بھی نہیں لگا کہ یہ پی ٹی آئی کا بڑا جلسہ ہے، صحافی کاشف عارف
نوجوان صحافی کاشف عارف جو پشاور سے کوریج کے لیے آئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے ضلع خیبر سے زیادہ لوگ آئے تھے جبکہ دیگر اضلاع سے نہ ہونے کے برابر تھے۔
ان کے مطابق جلسے سے واضح ہوا کہ پی ٹی آئی اس وقت اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارکنان کی دلچسپی بھی کم تھی اور جیسے ہی سہیل آفریدی خطاب کے لیے آئے، لوگ جلسہ گاہ سے نکلنا شروع ہو گئے۔
ان کے مطابق جلسہ گاہ میں قریباً 8 ہزار افراد موجود تھے، جبکہ پی ٹی آئی نے 50 ہزار کارکنان لانے کا دعویٰ کیا تھا۔
امن کے لیے قرار داد منظور
پی ٹی آئی نے مردان جلسے میں مختلف قراردادیں بھی منظور کیں۔
ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بلوں کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے قرارداد پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
قرار داد کے مطابق موجودہ حکومت کو نہ عوام سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی ان کے مسائل سے، بلکہ اس کے لیے صرف طاقت، مفاد اور اقتدار اہم ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے بھی قرارداد منظور کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دونوں کو ان کی مرضی کے اسپتال میں اہلِ خانہ اور معالجین کی موجودگی میں فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ نیز سیاسی بنیادوں پر گرفتار، قید یا سزا یافتہ تمام رہنماؤں، کارکنوں اور سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے رہا کیا جائے۔
خطے میں امن کے حوالے سے قرار داد میں کہا گیا کہ یہ اجتماع دنیا میں امن کی ہر سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے ایرانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ فلسطین اور غزہ کے عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتی ہے۔ تاہم اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دنیا میں امن کی ابتدا اپنے ہی ملک سے ہونی چاہیے۔
قرار داد میں خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وفاق سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبے کو اس کے مالی حقوق، بالخصوص این ایف سی میں حصہ اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔
مزید کہا گیا کہ محنت کش کو تحفظ دیا جائے، کسان کو سہارا دیا جائے، نوجوانوں کو ان کا حق دیا جائے، بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے، عوامی مینڈیٹ بحال کیا جائے اور عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
سہیل آفریدی کا مردان کے لیے 50 ارب پیکج کا اعلان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مردان کے لیے 50 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق متوازن ترقی کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی اسٹریٹ موومنٹ کے تسلسل میں 25 اپریل کو یومِ تاسیس کے موقع پر آزاد کشمیر اور یکم مئی کو لاہور کے دوروں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس گراؤنڈ میں منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جب تک عمران خان اور ان کی اہلیہ کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور خاندان کی موجودگی میں نہیں کرایا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ مردان نے ثابت کر دیا کہ عوام عمران خان کی کال پر لبیک کہتے ہیں۔ عمران خان کی ہدایت پر جلسہ دن کی روشنی میں کیا گیا اور عوام کی شرکت نے واضح پیغام دیا ہے کہ عمران خان کل بھی لیڈر تھے اور آج بھی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے عمران خان کو پیغام دیا ہے کہ قوم تیار ہے، حکم کریں تو اگلے دن اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔













