امریکی حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے اور بعد ازاں سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے ٹیرف کی مد میں حاصل ہونے والی 166 ارب ڈالر سے زائد رقم کی واپسی کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔
یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق اس نظام کے ابتدائی مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت درآمد کنندگان اور کسٹمز بروکرز اب اپنی ادائیگیوں کی واپسی کے لیے درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ ٹیرف ہٹائے تو امریکا مالی طور پر تباہ ہوجائے گا‘، ٹرمپ نےامریکی عدالت کا فیصلہ مستردکر دیا
ادارے نے مارچ میں اندازہ لگایا تھا کہ 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد درآمد کنندگان 5 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ کھیپوں پر ادا کیے گئے ڈیوٹی یا ڈپازٹس کی واپسی کے اہل ہو سکتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں تقریباً 127 ارب ڈالر کی ڈیوٹی ادائیگیاں الیکٹرونک ریفنڈ کے لیے موزوں قرار دی گئی ہیں۔
#TrumpWatch | The U.S is set to launch a #refund system for importers and customs brokers following the US Supreme Court ruling that #TrumpTariffs lacked constitutional authority, enabling claims via the CBP portal.
Here's all you need to know | #tariffs…
— CNBC-TV18 (@CNBCTV18News) April 20, 2026
عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ ان ٹیرف پر لاگو ہوتا ہے جو انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت نافذ کیے گئے تھے۔
جسے ٹرمپ نے گزشتہ سال جنوری میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر مختلف شرحوں کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی اور بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
تاہم اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں جیسے شعبہ جاتی ٹیرف بدستور برقرار ہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد ہزاروں کمپنیوں نے یو ایس کورٹ آف انترنیشنل ٹریڈ میں مقدمات دائر کیے ہیں تاکہ اپنی ادا کردہ رقوم کی واپسی حاصل کر سکیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف معاہدہ طے پا گیا، وزیرِ خزانہ کا خیر مقدم
یہ ابھی واضح نہیں کہ ٹیرف کے بوجھ تلے دبنے والے صارفین کو کتنی حد تک فائدہ پہنچے گا، کیونکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کمپنیاں وصول شدہ رقم میں سے کتنا حصہ صارفین کو منتقل کرتی ہیں۔
اس ضمن میں فیڈ ایکس نے کہا ہے کہ وہ ان صارفین اور شپنگ کرنے والوں کو رقم واپس کرے گا جنہوں نے اصل میں یہ اخراجات برداشت کیے تھے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا
ادارے کے حالیہ نوٹس کے مطابق منظور شدہ درخواستوں پر عمومی طور پر 60 سے 90 دن کے اندر ریفنڈ جاری کر دیا جائے گا۔
فروری میں سپریم کورٹ کے قدامت پسند اکثریتی بینچ نے صدر ٹرمپ کے متعدد ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے ان کی اہم معاشی پالیسی کو بڑا دھچکا پہنچاتے ہوئے ریفنڈ کی راہ ہموار کی تھی۔











