ہاؤس آف کامنز میں اجلاس کے دوران وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو ’جھوٹا‘ قرار دینے پر 2 ارکان پارلیمنٹ کو ایوان سے باہر نکال دیا گیا جبکہ ایک رکن کو معطل بھی کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق لی اینڈرسن اور زارا سلطانہ نے وزیراعظم پر سابق برطانوی سفیر پیٹر میڈیلسن کی تقرری سے متعلق بیان میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔ اس پر اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے الفاظ واپس لینے کا کہا، تاہم دونوں ارکان نے انکار کر دیا۔
“That man couldn’t lie straight in bed!”
Lee Anderson has just been kicked out of the chamber for calling Starmer a liar. pic.twitter.com/1yka4DCwpl
— Nigel Farage MP (@Nigel_Farage) April 20, 2026
لی اینڈرسن کو فوری طور پر ایوان سے نکال دیا گیا جبکہ زارا سلطانہ نے بھی وزیر اعظم پر سخت تنقید جاری رکھی، جس کے بعد انہیں معطل کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی۔
🚨 WATCH: Zarah Sultana is suspended and removed from the House of Commons for calling Keir Starmer a liar
“I have a duty to my constituents to tell the truth and the Prime Minister is a liar” pic.twitter.com/99XaFbEvH9
— Politics UK (@PolitlcsUK) April 20, 2026
واضح رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کے قواعد کے مطابق کسی رکن کو دوسرے رکن پر جھوٹ بولنے کا الزام لگانے کی اجازت نہیں ہوتی، اور اس طرح کی کارروائی 2022 کے بعد پہلی بار سامنے آئی ہے۔














