مشرق وسطیٰ کی نسبت سے ہمارے ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے کالم اور ویڈیو گفتگو علاقے کے مسلم ممالک کی داخلی صورتحال کے تناظر میں آگے بڑھتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ اس لحاظ سے عین فطری بھی ہے کہ مسلم دنیا ہی ہمارا سٹیک ہے۔ سو اس کے حوالے سے حساسیت قابل فہم ہے۔ لیکن دشمن کی داخلی صورتحال کو محض ضمنی تذکرے تک رکھنے سے تصویر نامکمل رہ جاتی ہے۔ سو زیر نظر سطور میں ہم اس کمی کو کسی حد تک دور کرنے کی کوشش کرنے جا رہے ہیں۔
کسی بھی جنگ کے عین آغاز پر ہی 2 سوالات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ کا مقصد یعنی وہ ہدف کیا ہے جس کے حصول کے لیے بارود کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا گیا ؟ اور دوسرا یہ کہ جارح اس جنگ کو کس ڈاکٹرائن یعنی جنگی نظریے کے تحت لڑے گا ؟ان دونوں سوالات کے جوابات موجود ہوں تو جارح مجروح کی معاشی، و ملٹری قوت کو پیش نظر رکھ کر عسکری تجزیہ کار آسانی سے نتائج کا پیشگی لگا لیتے ہیں۔
غزہ سے لے کر ایران تک اسرائیل جو جنگ مسلط کرتا آرہا ہے اس کی سب سے نمایاں چیز یہ ہے کہ یہ ایک طویل جنگ ہے اور اسرائیل اسے مسلسل جاری رکھنا چاہتا ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ نیتن یاہو کرپشن کیسز میں جیل جانے سے بچنے کے لیے جنگ کو طول دے رہا ہے۔ کیونکہ جب تک جنگ رہے گی نیتن یاہو کے خلاف کیسز کی سماعت نہ ہوگی۔ مگر بات اتنی سادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ
اس جنگ کے نتیجے میں نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا ہے، فلسطینیوں کو نسل کشی جیسی صورتحال سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اسرائیلی شہری اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ نیتن یاہو کام ٹھیک سے نہیں کر رہا۔ وہ پوری بے رحمی نہیں دکھا رہا۔ اور اس معاملے میں وہاں کے مذہبی جنونی اور لبرلز یک زباں ہیں۔ اس شدت کے پیچھے جو راز چھپا ہے وہ اسرائیل کے عبرانی میڈیا میں بالکل کھلا پڑا ہے۔ یعنی وہ بیانیہ جس کے ذریعے اسرائیلی شہریوں کو غزہ پر حملے کے وقت سے بتایا گیا ہے کہ جنگ کس ڈاکٹرائن کے تحت ہوگی؟ اور یہ کب تک جاری رہے گی۔ چنانچہ اسرائیلی انٹیلی جنشیا ہی نہیں بلکہ عام آدمی بھی اسی کی حمایت کرتے ہوئے جنگ کا تسلسل چاہتا ہے۔
7 اکتوبر کے بعد اسرائیل میں فوجی اور سیاسی نظریات میں 180 ڈگری کی تبدیلی آئی اور اس تبدیلی کا بڑا انحصار امریکا پر ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل زیادہ تر ’بن گورین نظریے‘ پر چلتا تھا۔ اس نظریے کے مطابق اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی اور معیشت محدود ہے، اس لیے وہ ایک بہت بڑی مستقل فوج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، یہ اس کی بساط سے باہر ہے۔ چنانچہ اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر رہنا تھا اور ایک چھوٹی پیشہ ور فوج کے ساتھ زیادہ تر اپنے ریزرو فوجیوں پر انحصار کرنا تھا۔ بن گورین کا یہ تصور 19ویں صدی کے ’کلاؤز وٹسی‘ نظریے کے مطابق تھا، جو کہتا ہے طاقت کا استعمال محض تباہی کے لیے نہیں بلکہ سیاسی سمجھوتوں تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔
لیکن 7 اکتوبر کے بعد اس نظریے سے جان چھڑانے کے لیے عبرانی میڈیا میں بنیادی بیانیہ یہ پیش کیا گیا کہ 7 اکتوبر ہولوکاسٹ کا تسلسل ہے۔ لہذا یہ سمجھنا حماقت ہے کہ ہولوکاسٹ ماضی کا کوئی واقعہ ہے جو گزرچکا ہے۔ اس نے شکل بدلی ہے مگر جاری یہ اب بھی ہے۔ اس بیانیے کو مستحکم بنانے کے لیے عورتوں بچوں کے قتل کی وہ جھوٹی داستانیں استعمال کی گئیں جو 7 اکتوبر کے حماس حملے سے منسوب ہیں۔ یہ اس لحاظ سے بہت باریک واردات ہے کہ فلسطینیوں کو ہولوکاسٹ سے لنک کرکے گویا نازی کا درجہ دیدیا گیا۔
ہولوکاسٹ کی بیس لائن بنانے کے بعد انہوں نے ’بن گورین‘ کے اس نظریے سے 180 ڈگری کا یوٹرن لیا اور وہ نظریہ اپنایا جسے وہ ’مستقل سیکیورٹی‘ کا نام دیتے ہیں۔ مستقل سیکیورٹی کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی بھی ایسے خطرے کو پنپنے ہی نہ دیں جو لمحہ موجود میں تو کجا مستقبل میں بھی آپ پر حملہ آور ہو نے کا امکان رکھتا ہو۔ کلاؤزوسٹی نظریے کی طرح ہی یہ سوچ بھی اصل میں جرمنی سے ہی آئی ہے جو کوئی حیران کن بات نہیں۔ اور اب انہوں نے اسی کو اپنا لیا ہے۔ یہ نظریہ اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ’جڑوں تک سیکیورٹی‘ ہے۔ اور یہی اس کا مرکزی اور سب سے خطرناک نکتہ ہے۔ اسے سمجھتے ہی آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ غزہ میں چن چن کر بچوں کو بڑے پیمانے پر کیوں نشانہ بنایا گیا ؟ اس نئی ڈاکٹرائن کے مرکز میں ’جڑوں تک‘ کا مطلب ہے کہ بچے اور عورتیں بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں کیونکہ وہ آگے چل کر ایک اور ایسی نسل کو پروان چڑھا سکتے ہیں جو ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ سے تل ابیب تک
امید تو یہی ہے کہ آپ یہ بھی سمجھ چکے ہوں گے کہ ’مستقل سیکیورٹی‘ نامی یہ نظریہ اپنے مرکزی نکتے کے سبب درحقیقت نسل کشی کا ہی نظریہ ہے۔ جو کہتا ہے کہ موجود خطرہ یعنی مسلح مزاحمت کو بھی کچلنا ہے۔ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی ختم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی نسل ہی نہ اٹھ سکے جو اسرائیل کو چیلنج کرے۔ چنانچہ سموٹریج اور بن گویر جیسے وزیر محض ذاتی جذباتیت نہیں دکھا رہے بلکہ اس نئی ڈاکٹرائن کے لیے اسرائیل کا وہ ’مذہبی جنونی عنصر‘ بنیادی اہمیت رکھتا ہے جو عظیم تر اسرائیل کا خواب دیکھتا آیا ہے، اور چاہتا ہے کہ یہ عظیم تر اسرائیل طاقت کے بل بوتے پر وجود میں آئے۔
ان کا ماننا ہے کہ بس طاقت کے زور پر زمین ہتھیا لی جائے، اسی کے ذریعے نجات حاصل ہوگی اور مسیح دجال کی واپسی ممکن ہوگی۔ چنانچہ یہ 2 مختلف سوچیں ایک عجیب و غریب اتحاد میں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ یعنی مذہبی جنونیوں اور اسرائیلی لبرلز کا اتحاد۔ اسرائیلی فوج خود بار بار کہتی ہے کہ ’ہمیں خود سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم اس مذہبی جنونی عنصر کے ساتھ اتحاد میں کیسے آگئے؟‘ لیکن حقیقت یہی ہے۔ چنانچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی میں شراکت سے انکار کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے۔ اس نئی ڈاکٹرائن کی روشنی میں طے کردہ ایک کلیدی ہدف لبنان میں نسل کشی ابھی باقی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ حزب اللہ کو آج کے لیے ایک ایسا خطرہ سمجھتے ہیں جسے جڑ سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اور اسے شمالی شہروں یا سرحد کے جنوب میں واقع گلیلی تک پھیلے ہوئے علاقوں کے قریب رہنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ ہے اسرائیل کی وہ ملٹری ڈاکٹرائن جس کے تحت وہ 7 اکتوبر کے بعد سے سرگرم ہے، اور ظاہر ہے یہ طویل المدت پروجیکٹ ہے۔
اب کلیدی سوال یہ آجاتا ہے کہ کیا اس اسرائیلی ڈاکٹرائن کا کوئی توڑ ہے ؟جی ہاں! ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اس پر حملے کے عین آغاز پر اسکول کی بچیوں کو نشانہ بنوا کر دراصل نیتن یاہو نے اپنی رائے عامہ کو یہ میسج دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ غزہ کی طرح ایران میں بھی’جڑ تک‘ جانے والی حکمت عملی آگے بڑھا رہا ہے۔ اور ایران یہ بھی جانتا ہے کہ اس ملٹری ڈاکٹرائن میں جنگ کا مسلسل جاری رہنا بنیادی اسرائیلی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس کے توڑ کے لیے اس نے 2 مساواتیں متعارف کرائی ہیں۔ پہلی یہ کہ امریکا یا اسرائیل کا ایران اور اس کے وسائل پر کوئی چھوٹے سے چھوٹا حملہ بھی بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا اور جواب اتنا ہی نہیں دیا جائے گا جس شدت کا حملہ ہوا۔ بلکہ ایک سٹیپ آگے رہا جائے گا۔ چنانچہ گزشتہ ہفتے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے اسی ایرانی حکمت عملی کا حصہ تھے۔
مزید پڑھیں: ہر راستہ بیجنگ کی جانب
دوسری مساوات ایران نے یہ بنائی ہے کہ اس نے لبنان اور فلسطین کو ایران سے باقاعدہ لنک کرکے یہ تصور دیا ہے ’امن سب کے لیے ورنہ کسی کے لیے نہیں‘ اس حکمت عملی نے اسرائیل میں شدید ہیجان پیدا کردیا ہے۔ اسرائیلی کہہ رہے ہیں کہ لبنان اور غزہ الگ معاملہ ہیں اور ایران الگ۔ جوابا ایران یہ کہہ رہا ہے کہ ہم تو الگ ہی تھے، یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ایران پر حملہ کرکے یہ لنک قائم کردیا ہے۔ اب یہ لنک نہیں ٹوٹے گا۔ فلسطین یا لبنان پر حملے کا جواب ایران سے ہی آئے گا۔ سو اگر امن چاہئے تو وہ پھر سب کے لیے ہی ہوگا۔ اور ایران امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ اسی اصول پر کرنے کی کوشش میں ہے۔ یوں گویا ممکنہ ایران امریکا امن معاہدہ درحقیقت اسرائیل کی نئی ملٹری ڈاکٹرائن کی ہی موت ہے !
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













