’نیوکلیئر اسلامزم‘ کا بھارتی بیانیہ گمراہ کن، پاکستان اور ایران کا تقابل حقائق کے منافی قرار

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی تجزیہ کار براہما چیلانی (Brahma Chellaney) کی جانب سے امریکی ویب پلیٹ فارم دی ہل (The Hill) پر شائع مضمون میں پاکستان اور ایران کو اسلامی ریاستوں کی بنیاد پر جوہری پالیسی کے تناظر میں یکساں قرار دینے کے مؤقف کو ماہرین نے گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ماہرین نے پیش کیے گئے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ کے تصور کو حقائق کے منافی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کا تقابل بنیادی طور پر غلط مفروضوں پر مبنی ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن قرار دیدیا، حکومت سے 4 اہم مطالبات

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دلیل اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ امریکا کی جوہری پالیسی دونوں ممالک کے ساتھ مذہبی شناخت کی بنیاد پر مختلف ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ فرق قانونی، تزویراتی اور جغرافیائی عوامل سے جڑا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے جوہری پروگرامز کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا قانونی اور ادارہ جاتی فرق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن نہیں، اس لیے اس پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا اطلاق نہیں ہوتا، جبکہ ایران اس کا دستخط کنندہ اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی پالیسی کو دوہرا معیار قرار دینا بھی من گھڑت بیانیہ ہے، کیونکہ واشنگٹن کے فیصلے تاریخی طور پر جغرافیائی سیاست اور سیکیورٹی ضروریات کے تحت ہوتے رہے ہیں، نہ کہ کسی مذہبی یا نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر۔

مزید کہا گیا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی خدشات اور بھارت کے 1974 کے ایٹمی تجربے کے ردعمل میں سامنے آیا، جبکہ ایران کا معاملہ ایک معاہداتی اور بین الاقوامی نگرانی کے فریم ورک کے اندر رہا ہے۔

تجزیہ کار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی جوہری نظام میں اصل سوالات دیگر مثالوں سے جڑے ہیں، جیسے 2008 میں بھارت کو نیو کلیئر سپلائرز گروپ (Nuclear Suppliers Group) کی جانب سے خصوصی چھوٹ ملنا، حالانکہ وہ بھی این پی ٹی سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، امریکا کی تصدیق

ماہرین کے مطابق جوہری ہتھیار ریاستی اداروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور دفاعی حکمت عملی کے تحت چلتے ہیں، نہ کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر۔ اس لیے ’نیوکلیئر اسلامزم‘ جیسی اصطلاحات علمی تجزیے کے بجائے سیاسی بیانیہ زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔

نتیجتاً، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کا تقابل عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام میں حقیقی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتا ہے اور خطے کی اسٹریٹجک حقیقتوں کو سادہ بنا کر پیش کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آئی سی سی کی نئی رینکنگ: بابراعظم اور محمد عباس کی ترقی، رضوان سمیت کئی کھلاڑی تنزلی کا شکار

4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ خان اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

چین کا اے آئی سے ہونے والی آن لائن ہراسانی روکنے کے لیے نئے قانون کا مسودہ جاری

چیف جسٹس کے زبانی احکامات پر مقدمات فکس کرنے  کا سلسلہ ختم، رجسٹرار سپریم کورٹ

اے آئی انقلاب کے ثمرات، مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت سے آمدن 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین