2025 میں ہجرت کے راستوں پر 7,900 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے، اقوام متحدہ

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت یعنی آئی او ایم نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں ہجرت کے راستوں پر تقریباً 7,900 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے۔

جس کے بعد 2014 سے اب تک مرنے یا لاپتا ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ادارے کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر ہجرت کے راستوں پر 7,904 اموات اور گمشدگیاں ریکارڈ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ جانے کا جنون، بحیرہ روم میں ایک اور کشتی الٹنے سے 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ’مسنگ مائیگرنٹس پروجیکٹ‘ کے مطابق 2014 سے اب تک 80 ہزار سے زائد افراد ہجرت کے دوران جان کی بازی ہار چکے یا لاپتا ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار دراصل اصل تعداد کا کم از کم تخمینہ ہیں، تاہم یہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہاجرین کی اموات روکنے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

اگرچہ 2025 کے اعداد و شمار 2024 کے مقابلے میں کم ہیں، جب 9,200 اموات ریکارڈ کی گئیں جو اب تک کی بلند ترین سالانہ تعداد تھی، تاہم آئی او ایم کے مطابق یہ صورتحال اس عالمی ناکامی کا تسلسل ہے جس میں ان قابلِ تدارک اموات کو روکنے میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ادارے نے مزید کہا کہ 2025 میں امداد میں غیر معمولی کمی اور خطرناک غیر قانونی راستوں سے متعلق معلومات کی محدود دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث لاپتا ہونے والے مہاجرین مزید گمنام ہو رہے ہیں۔

امریکا میں پالیسی تبدیلیوں کے اثرات

امریکا میں امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلی اور جنوبی سرحد کی بندش کے باعث وسطی امریکا سے شمال کی جانب ہجرت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

آئی او ایم کی عہدیدار ماریا موئٹا کے مطابق اس کے نتیجے میں اس راستے پر اموات میں کمی دیکھی گئی، تاہم امریکا اور میکسیکو سے ڈیٹا کی کمی اور فنڈنگ میں کٹوتیوں نے مکمل تصویر واضح ہونے سے روکے رکھا۔

یورپ اور دیگر خطوں کی صورتحال

یورپ میں مجموعی طور پر آمد میں کمی آئی، لیکن مہاجرین کے رجحانات میں تبدیلی دیکھی گئی، جہاں بنگلہ دیشی شہری سب سے بڑی تعداد میں پہنچنے والے گروہ بن گئے جبکہ شامی مہاجرین کی تعداد میں کمی آئی۔

یورپ جانے والے سمندری راستوں پر تقریباً 3,400 اموات اور گمشدگیاں ریکارڈ ہوئیں، جن میں سے 1,330 اموات وسطی بحیرہ روم کے راستے پر ہوئیں۔

مزید پڑھیں: یمن کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 54 افریقی پناہ گزین ہلاک، درجنوں لاپتا

جبکہ 1,200 سے زائد افراد مغربی افریقہ سے اسپین کے کینری جزائر جانے والے بحرِ اوقیانوس کے راستے میں ہلاک یا لاپتا ہوئے۔

اسی طرح خلیج بنگال اور بحیرہ انڈمان میں تقریباً 900 اموات ریکارڈ کی گئیں، یہ راستہ زیادہ تر روہنگیا مہاجرین استعمال کرتے ہیں اور 2025 اس روٹ کے لیے اب تک کا مہلک ترین سال قرار دیا گیا۔

خطرات بدستور موجود

آئی او ایم کی سربراہ ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ تنازعات، موسمیاتی دباؤ اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث ہجرت کے راستے بدل رہے ہیں، مگر خطرات بدستور شدید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے ایسے انسان ہیں جو خطرناک سفر پر مجبور ہوتے ہیں، اور ایسے خاندان ہیں جو اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر رہتے ہیں جو شاید کبھی نہ ملے۔

مزید پڑھیں: لیبیا کشتی حادثہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

ادارے کے مطابق 2014 سے اب تک کم از کم 3 لاکھ 40 ہزار خاندان ایسے ہیں جو اپنے لاپتا رشتہ داروں کے باعث نفسیاتی، سماجی، قانونی اور معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

آئی او ایم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے تاکہ مہاجرین کی جانیں بچائی جا سکیں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کردیا

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات کرا دی گئی، صحت اور زیر سماعت مقدمات پر تبادلہ خیال

علاقائی غیر یقینی کے باوجود پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی، مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

اسلام آباد امن مذاکرات: پاکستان ایرانی وفد کی شرکت کی تصدیق کا منتظر ہے، عطا تارڑ

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

لائیوٹرمپ ایران سے معاہدے کے لیے پُرامید، پاکستان کی جنگ بندی میں توسیع کی اپیل، سعودی عرب اسلام آباد کی امن کوششوں کا حامی

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ