امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی داخلی صورتحال شدید طور پر منقسم ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے درخواست کی گئی کہ ایران کے خلاف کارروائی اس وقت تک روکی جائے جب تک ایرانی قیادت کسی متفقہ تجویز پر نہیں پہنچ جاتی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھے اور دیگر تمام پہلوؤں سے مکمل تیاری برقرار رکھے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جنگ بندی میں بھی توسیع کی جا رہی ہے، جو اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی حتمی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
ایران نے میرے علاوہ تمام امریکی صدور سے فائدہ اٹھایا، ٹرمپ کی وال اسٹریٹ جرنل پر بھی تنقید
امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ’وال اسٹریٹ جرنل‘کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایلیٹ کافمین نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’ایرانی ٹرمپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں‘، تاہم ان کے بقول ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں سوائے ان کے ہر امریکی صدر سے فائدہ اٹھایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دور میں ایران کی بحریہ تباہ ہوگئی، فضائیہ ختم ہوگئی، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار ناکارہ بنا دیے گئے، جبکہ امریکی ’بی-2‘ بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری لیبارٹریوں اور ذخیرہ گاہوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو بھی نقصان پہنچا، جن میں جنرل ’قاسم سلیمانی‘ بھی شامل تھے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے اور ایرانی بندرگاہوں کی جانب کسی جہاز کو جانے کی اجازت نہیں، جس کے باعث ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے سابق امریکی صدر ’براک حسین اوباما‘ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایران کو 1.7 ارب ڈالر نقد رقم اور سینکڑوں ارب ڈالر فراہم کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور اب یہ مطالعہ کے قابل نہیں رہا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کھولا تو باقی قیادت کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کر سکے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران صرف اس لیے آبنائے ہرمز بند کرنے کی بات کرتا ہے کیونکہ ان کے بقول وہ پہلے ہی اسے مکمل طور پر ناکہ بند کیے ہوئے ہیں، اور ایران محض اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ 4 روز قبل کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کر کے بتایا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر ایسا کیا گیا تو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان نہیں رہے گا، سوائے اس صورت کے کہ ملک کے باقی حصے اور قیادت کو نشانہ بنایا جائے۔
یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر
واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ 22 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا، تاہم امریکی صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان اچانک مؤخر ہوگیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکا کا ایک وفد جو ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے براہِ راست امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد روانہ ہونے والا تھا، اس کی روانگی مؤخر کر دی گئی ہے، اور اب وائٹ ہاؤس نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں سفارتکاری، میئر لندن کی وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف
ایران جنگ بندی میں توسیع پر اپنی اور فیلڈ مارشل کی طرف سے صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں، وزیراعظم
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں اپنی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے صدر ٹرمپ کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر احسن انداز میں جنگ بندی میں توسیع کو قبول کیا تاکہ جاری سفارتی کوششیں اپنے طریقے سے آگے بڑھ سکیں۔
On my personal behalf and on behalf of Field Marshal Syed Asim Munir, I sincerely thank President Trump for graciously accepting our request to extend the ceasefire to allow ongoing diplomatic efforts to take their course.
With the trust and confidence reposed in, Pakistan…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 21, 2026
انہوں نے کہاکہ دیے گئے اعتماد اور بھروسے کے تحت پاکستان بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے کہاکہ میں پُرامید ہوں کہ دونوں فریق جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے دورِ مذاکرات میں ایک جامع امن معاہدہ طے کرنے میں کامیاب ہوں گے، تاکہ تنازع کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پوسٹ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف سمیت ایرانی قیادت کو بھی ٹیگ کیا ہے۔
مذاکرات کے لیے وفد اسلام آباد بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانے والے وفد سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مذاکرات کو نتیجہ خیز نہیں سمجھا جاتا، ایران اس میں شرکت کے حوالے سے فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کی منظوری نہیں دی گئی۔
اسماعیل بقائی نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحری جہازوں اور سمندری تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے امریکا کی نیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ابتدا سے ہی امریکا پر اعتماد نہیں کرتا، اور حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت کے باعث مخالف فریق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایران کے ساتھ ایک بہترین معاہدہ طے پا سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہترین معاہدہ طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ جنگ بندی کو آگے بڑھایا جائے ۔
منگل کو سی این بی سی کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا انے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو نقصان پہنچایا ہے اور اس وقت واشنگٹن ایک مضبوط پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایک بہت ہی مضبوط مذاکراتی پوزیشن میں ہیں جبکہ امریکی وفد، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات متوقع ہیں جن کا مقصد کئی ہفتوں سے جاری تنازع کا خاتمہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں جو بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کرنا چاہتا ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔
ہماری افواج ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، امریکی صدر
صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ہماری افواج کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی۔
یاد رہے کہ 8 اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔
ایران اپنی خود مختاری کے دفاع کے لیے ہر اقدام کرےگا، ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی اور اعلان جنگ ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ کسی تجارتی بحری جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی سنگین اقدام ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
Blockading Iranian ports is an act of war and thus a violation of the ceasefire.
Striking a commercial vessel and taking its crew hostage is an even greater violation.
Iran knows how to neutralize restrictions, how to defend its interests, and how to resist bullying.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 21, 2026
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران پابندیوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے مفادات کے دفاع سے بھی بخوبی واقف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرےگا۔
پاکستان کی ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع کی اپیل
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں، وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور نیتالی اے بیکر سے ملاقات میں زور دیا ہے کہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی چیلنجز سے نمٹنے کا واحد راستہ ہیں، لہٰذا دونوں فریقین بدھ کو ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی چینی سفیر سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس اہم ملاقات میں خطے کی حالیہ صورتحال اور اسلام آباد میں ہونے والے پاک-امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
U.S. Chargé d’Affaires Natalie A. Baker called on Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 today. Discussions covered recent regional developments.
DPM/FM underscored Pakistan’s consistent emphasis on dialogue and diplomacy as the only… pic.twitter.com/1Roqj3R1gE
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 21, 2026
اسحاق ڈار نے امریکی عہدیدار پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور امریکا و ایران کو چاہیے کہ وہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیں تاکہ جنگ کے بادل چھٹ سکیں۔
امریکی ناظم الامور نے علاقائی امن کے فروغ اور فریقین کے درمیان بات چیت کی سہولتکاری کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا مصری ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، امن و استحکام کے لیے مکالمے پر زور
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے اور دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد میں امن مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی ونس اور ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کی شرکت کی خبریں گردش کررہی ہیں۔
سعودی عرب کا پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مکالمے اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke this evening with Saudi Foreign Minister Prince Faisal bin Farhan Al Saud @FaisalbinFarhan.
The two leaders discussed the latest regional developments and emphasized the importance of… pic.twitter.com/VGicvnbXKB
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 21, 2026
سعودی وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستان کی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور اہم علاقائی امور پر مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان ایرانی وفد کی مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا منتظر ہے، وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد امن مذاکرات کے حوالے سے ایران کی جانب سے وفد کی شرکت کی باضابطہ تصدیق کا انتظار تا حال جاری ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری اور مذاکرات کے راستے کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔
The situation as it stands at 1930 PST
1. Formal response from Iranian side about confirmation of delegation to attend Islamabad Peace Talks is still awaited.
2. Pakistan as the mediator is in constant touch with Iranians and pursuing the path of diplomacy and dialogue.
3.…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) April 21, 2026
عطا تارڑ نے بتایا کہ موجودہ جنگ بندی بدھ 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے لہٰذا ایران کا مذاکرات میں شرکت سے متعلق فیصلہ جنگ بندی کے اختتام سے قبل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے ایرانی قیادت سے اپیل کی کہ ان خواتین کو رہا کیا جائے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ اقدام کیا گیا تو وہ اسے نہایت مثبت پیش رفت سمجھیں گے اور اس سے جاری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ان خواتین کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے، اور یہ پیغام خاص طور پر ان ایرانی رہنماؤں کے لیے ہے جو جلد امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں شریک ہونے والے ہیں۔
جے ڈی وینس تاحال واشنگٹن سے پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوئے
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جے ڈی وینس سے متعلق وائٹ ہاؤس حکام نے وضاحت کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تاحال واشنگٹن سے روانہ نہیں ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر اس وقت مزید پالیسی مشاورت اور اجلاسوں میں مصروف ہیں، جبکہ ان کے مجوزہ دورے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی روانگی نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ روز سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ امریکی نائب صدر وفد کے ہمراہ پاکستان روانہ ہو چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت کے نام پر جعلی پیغامات ملنے کا انکشاف
سمندری سیکیورٹی اور رسک مینجمنٹ فرم مارِسکس نے خبردار کیا ہے کہ بعض نامعلوم عناصر کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو جعلی پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت کے بدلے کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ پیغامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں سمندری صورتحال غیر یقینی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ جہاز جو اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں مبینہ طور پر ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ ایرانی حکام کے نام پر ٹرانزٹ کلیئرنس کے لیے بٹ کوائن یا ٹیتر جیسی کرپٹو کرنسی میں فیس ادا کی جائے۔
مارِسکس نے واضح کیا ہے کہ یہ پیغامات مکمل طور پر دھوکہ دہی پر مبنی ہیں اور ایرانی حکام کی جانب سے جاری نہیں کیے گئے۔ تہران کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں ملاحوں کے ساتھ سینکڑوں بحری جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس دوران بعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تاہم انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ کو واپس لوٹنا پڑا۔
مارِسکس نے مزید کہا کہ ایک واقعے میں ایسے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ممکنہ طور پر اسی جعلی پیغام پر عمل کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جعلسازی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب خطے میں سمندری راستوں کی سکیورٹی انتہائی حساس ہو چکی ہے اور عالمی تجارت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
امریکی فوج نے کھلے سمندر میں ایک اور آئل ٹینکر اپنی تحویل میں لے لیا
امریکا ایران مذاکرات کو بچانے کے لیے پاکستان دن رات کوششیں کر رہا ہے، الجزیرہ
پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں فضا تیار ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
اسلام آباد میں مقیم پبلک پالیسی کی ماہر نیلوفر آفریدی قاضی کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے دن رات کوششیں کر رہا ہے اور دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ’پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ یہ عمل آگے بڑھے، اور امید ہے کہ آج رات یا کل تک ہم کسی قدر مثبت سمت میں پیش رفت دیکھ سکیں گے۔‘
نیلوفر آفریدی قاضی نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت مکمل تیاری کا ماحول ہے، شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث جزوی لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے، جبکہ تجزیہ کار صورتحال کو ’ہر لمحہ‘ مانیٹر کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایران کے مبینہ متضاد بیانات کے حوالے سے کہا کہ صرف تہران کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں، کیونکہ ہر ملک میں فیصلے مختلف مراکزِ اختیار کے تحت ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر بھی فیصلہ سازی کا عمل بعض اوقات اتنا ہی متضاد، بلکہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پوری صورتحال میں ایک اہم عنصر اسرائیل ہے، جس کا اثر و رسوخ سب پر واضح ہے اور پالیسی سازی میں اس کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے، باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محاصرے کے ذریعے مذاکراتی عمل کو دباؤ میں لا کر ایران کو ہتھیار ڈالن پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مذاکراتی میز کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتا ہے جہاں ایران پر دباؤ ڈال کر اسے یکطرفہ شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
ترامپ با اعمال محاصره و نقض آتشبس میخواهد تا به خیال خود این میز مذاکره را به میز تسلیم تبدیل کند یا جنگافروزی مجدد را موجّه سازد.
مذاکره زیر سایهٔ تهدید را نمیپذیریم و در دو هفتهٔ اخیر برای رو کردن کارتهای جدید در میدان نبرد آماده شدهایم.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 20, 2026
انہوں نے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایران نے میدانِ جنگ میں اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات کو قبول کیا جائے گا جو یکطرفہ دباؤ پر مبنی ہوں۔
آبنائے ہرمز میں ٹریفک محدود، 12 گھنٹوں میں صرف 3 جہازوں کی آمدورفت
آبنائے ہرمز میں سمندری سرگرمی انتہائی محدود ہو گئی ہے اور گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی ترسیل کے اس اہم راستے پر غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس عرصے میں صرف ایک ٹینکر ’نیرو‘ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج عرب سے باہر نکلا ہے جبکہ 2 جہاز اندر داخل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹینکر برطانوی پابندیوں کی زد میں ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث سمندری ٹریفک میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی دوران ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز ’شجاع 2‘ امریکی اعلان کردہ ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز بندر عباس کے قریب شہید رجائی بندرگاہ سے روانہ ہوا اور بھارت کی بندرگاہ کاندلہ کی طرف جا رہا ہے۔
اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم میری ٹائم ٹریکنگ سروس ’میرین ٹریفک‘ کے ڈیٹا کے مطابق جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود ہے اور بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں محدود سمندری ٹریفک اور کشیدہ صورتحال نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
جنگ کے اثرات اور پاکستان کا کردار
28 فروری سے جاری جنگ کے باعث ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی پابندیاں عائد اور واپس لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان، جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، واشنگٹن پر ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے زور دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی بدھ کو امریکی وقت کے مطابق شام 8 بجے ختم ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد میں تیاریاں مکمل
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد میں بھرپور تیاریاں کر لی ہیں۔ امکان ہے کہ یہ اہم مذاکرات جنگ بندی کے اختتام سے چند گھنٹے قبل ہوں گے۔
اگرچہ ایران نے تاحال اپنی شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم امریکی وفد کی آمد یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد کے ہمراہ اعلیٰ حکام بھی اسلام آباد پہنچیں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے غیر یقینی کے اظہار کے باوجود اسلام آباد میں عملی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، اور نور خان ایئربیس پر امریکی فوجی طیاروں کی آمد اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ مذاکرات کے انعقاد کی سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں، تاہم خطے میں کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔













