وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری کے ساتھ مختلف شعبوں میں مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے تفصیل سے حکومت کی معاشی و سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سفارتی کردار مضبوط ہو رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ جاری رہتی تو پٹرول 600 روپے لیٹر ہو جاتا، پاکستانی قیادت نے 193 ممالک کی معیشت بچا لی، احسن اقبال
معاشی اشاریوں میں بہتری کے حوالے سے انہوں نے بتایا ہے کہ مارچ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.07 ارب ڈالر سرپلس میں رہا، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 163 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 9 ماہ میں 1.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
خرم شہزاد کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا، جو مالی سال 2026 میں 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
’ترسیلات زر بھی بڑھ کر 30.3 ارب ڈالر ہو چکی ہیں اور سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔‘
🇵🇰 𝗔𝗺𝗶𝗱 𝗿𝗲𝗴𝗶𝗼𝗻𝗮𝗹 𝘂𝗻𝗰𝗲𝗿𝘁𝗮𝗶𝗻𝘁𝘆, 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻’𝘀 𝗳𝘂𝗻𝗱𝗮𝗺𝗲𝗻𝘁𝗮𝗹𝘀 𝗮𝗿𝗲 𝗴𝗮𝗶𝗻𝗶𝗻𝗴 𝘁𝗿𝗮𝗰𝘁𝗶𝗼𝗻.
See key latest developments below: from diplomacy to global engagement, macro stability, external surpluses, and global giants entering -… pic.twitter.com/Qgy8tBAqYq
— Khurram Schehzad (@kschehzad) April 21, 2026
مشیر خزانہ کے مطابق صنعتی شعبے میں بھی استحکام برقرار ہے، جہاں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اپنے بیان میں مشیر خزانہ نے نجکاری کے عمل میں پیش رفت جس میں پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہونے اور ڈسکوز سمیت روزویلٹ ہوٹل کے معاملات میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس اور 5 ارب ڈالر کے رول اوور کو پاکستان کے لیے اہم سہارا قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ملکی معیشت کے اہم اشاریے توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے، گورنر اسٹیٹ بینک
’عالمی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیز کا اعتماد بھی برقرار ہے، جہاں فچ ریٹنگز نے پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔‘
اس کے علاوہ وزیر اعظم اور اعلیٰ حکام کے سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکی کے دوروں کو سفارتی تعلقات کے فروغ میں اہم قرار دیا گیا۔
خرم شہزاد کے مطابق ان تمام عوامل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام، اصلاحات اور عالمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اگر یہ رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں مزید بہتری کے امکانات روشن ہیں۔














