’نو نقد، نہ تیرہ ادھار‘ کیونکہ ’نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی‘۔ اس پر مشورہ ملا کہ پھر ’گیتا‘ سے بات کر لیجیے، ’انیس بیس کا فرق‘ ہے اور ویسے بھی محفل کو ’چار چاند لگ جائیں گے‘۔ غصے میں مُشیر پر ’دو حرف بھیج‘ کر کہا ’یک نہ شُد، دو شُد‘ تو اس کے ’منہ پر بارہ بج گئے‘ اور وہ ’آٹھ آٹھ آنسو رونے‘ لگا۔ کہنے لگا کہ ’پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں‘، جبکہ آپ کی تو ’پانچوں انگلیاں گھی میں‘ ہیں۔ میں نے کہا ’چار دن کی چاندنی ہے، پھر اندھیری رات‘ ہے۔
اردو میں ہندسوں کے ساتھ کھیلنا محض شوق نہیں بلکہ ایک تہذیبی روایت ہے۔ روزمرہ، محاوروں، استعاروں اور ضرب الامثال میں اعداد اس طرح رچے بسے ہیں جیسے چائے میں شکر، اعتدال میں لطف اور زیادتی میں بوجھل پن۔ مثلاً اگر کسی کو حد سے زیادہ چالاک سمجھا جائے تو بلا تردد 420 کہہ دیا جاتا ہے۔
ہم ایک اور ایک گیارہ کا محاورہ بھی پڑھتے آئے ہیں، وہی محاورہ جس نے شاید اردو کو ریاضی سے کچھ فاصلے پر کھڑا کر دیا، کیونکہ حقیقتاً ایک اور ایک دو ہی ہوتے ہیں، مگر اردو نے اپنے تخیّلی اختیار سے کام لے کر اسے گیارہ بنا دیا۔ اسی ’تخلیقی حساب‘ کے نتیجے میں ایک اور محاورہ بھی وجود میں آیا: ’نو دو گیارہ‘۔ گویا اردو نے حساب کو اپنے انداز میں حل کرتے ہوئے فرار کا ایسا نسخہ ایجاد کیا کہ آج تک مستعمل ہے۔ کسی کو کہنا ہو کہ فوراً غائب ہو جاؤ تو بس حکم صادر ہوتا ہے: ’نو دو گیارہ ہو جاؤ۔‘
کسی تعلیمی بورڈ کے افسر نے پہلی جماعت کے طالب علم سے پوچھا: ’ایک اور ایک کتنے ہوتے ہیں؟‘ ہونہار بچے نے نہایت نستعلیق انداز میں جواب دیا: ’دو مرتبہ ایک‘۔ افسر نے شاید اسی دن ریاضی چھوڑ کر ادب کی راہ اختیار کرنے کا سوچ لیا ہوگا۔
میرا ایک دوست اس محاورے سے سخت خائف ہے۔ کہتا ہے: ’میرا تو اس محاورے سے ایمان اٹھ گیا ہے، اردو نے مجھے اندھیرے میں رکھا، شکر ہے آنکھیں وقت پر کھل گئیں‘۔ استفسار پر بولا: ’پشاور میں ایک ’دو ٹکے کے بندے‘ سے ’دو دو ہاتھ‘ ہو گئے۔ میں نے محاورے پر عمل کرتے ہوئے خود کو اور دوست کو ایک اور ایک گیارہ سمجھا، مگر پٹھان اور اس کے دو ساتھیوں نے ثابت کر دیا کہ اردو کا یہ محاورہ بھی ’دو اور دو پانچ‘ کی طرح محض دل بہلانے کو اچھا ہے‘۔
’پانچ دو سات ہونا‘ یعنی مل بیٹھنا، یہ ’نو دو گیارہ‘ کا متضاد محاورہ ہے۔ ایک میں فرار، دوسرے میں قرار۔ لہٰذا دانش مندی اسی میں ہے کہ موقع دیکھ کر کبھی ’نو دو گیارہ‘ ہو لیا جائے اور کبھی ’پانچ دو سات‘۔
’سولہ آنے سچ‘ بھی کبھی سچائی کا پیمانہ ہوا کرتا تھا۔ مگر اب جبکہ ہر شے کی قیمت بڑھ چکی ہے، اس محاورے کی قدر بھی بڑھنی چاہیے تھی۔ کم از کم اسے ’ہزار روپے سچ‘ تو ہونا ہی چاہیے تھا، اگرچہ آج کل ہزار بھی سچ بولنے سے قاصر نظر آتا ہے۔
’تین میں نہ تیرہ میں‘، یہ محاورہ بھی ایک بے گھر سچائی کی طرح ہے۔ اگر تین کو گھر اور تیرہ کو گھاٹ مان لیا جائے تو دھوبی کا کتا یہاں بھی اپنی جگہ نہ بنا سکے گا۔ امیر خسرو کا کتا بہرحال خوش نصیب تھا کہ کھیر کھا کر بھی داستانوں میں زندہ رہا اور پکانے والی کو ڈھول بجانا پڑا تھا۔ پطرس بخاری کے ’کتے‘ کی اس سنجیدہ تحریر میں ویسے ہی جگہ نہیں بنتی اور ملک صاحب کی ’کتیا‘ کا تذکرہ اخلاقی طور پر نامناسب ہے۔
’تین پانچ کرنا‘ بحث و مباحثے کے لیے مخصوص ہے، لہٰذا اس پر مزید تین پانچ کرنے کے بجائے آگے بڑھتے ہیں۔ فارسی کا احسان ہے کہ ہم ’شش و پنج‘ میں پڑے رہے، چھ اور پانچ کا یہ امتزاج اب محض ہندسہ نہیں، ایک ذہنی کیفیت بن چکا ہے۔
آپ خود سوچیے، ’ایک انار، سو بیمار‘ کی تقسیم کہاں کی انصاف پسندی ہے؟ موجودہ حالات میں تو محاورہ کچھ یوں ہونا چاہیے: ’ایک مچھر، سو بیمار‘ اور یہ بات دل کو بھی لگتی ہے۔ حالانکہ دل کو تو بکری کی بات بھی لگتی تھی مگر اس کی ذات چھوٹی تھی لیکن چھوڑیں’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘۔
چند ہندسے تقدس کے حامل ہیں، جیسے 786 جسے بسم اللہ کا عددی نمبر کہا جاتا ہے۔ کئی آڑھتی اشیائے ضروریہ کا بل 786 لکھ کر بناتے ہیں اور کاروبار میں’برکت‘کے لیے اسے مجموعی رقم میں شامل بھی کرلیتے ہیں۔ جبکہ ہماری فلموں میں اس نمبر کو ہیرو کو جیل ہو جانے کی صورت میں قیدی نمبر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اور وہ شخص جو جیل جاتا ہو یا جا چکا ہو اسے وطن عزیز میں سیاست دان کہتے ہیں یعنی ’چُپڑی اور دو دو‘ کیونکہ جیل کو جرائم کی یونیورسٹی کہا جاتا ہے اور ہمارے اکثر سیاست دان ’مفاد عامہ‘ کے لیے وہاں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور پھر نیب کو دعوتِ ’مُشقت‘ دیتے ہیں۔
72 اور 313 بھی اسلامی تاریخ کے سنجیدہ حوالے ہیں جو کربلا اور جنگ بدر کی یاد دلاتے ہیں۔ سلیم کوثر نے کیا خوب کہا تھا:
یہ فقط عظمتِ کردار کے ڈھب ہوتے ہیں
فیصلے جنگ کے تلوار سے کب ہوتے ہیں
جھوٹ تعداد میں کتنا ہی زیادہ ہو سلیمؔ
اہلِ حق ہوں تو 72 بھی غضب ہوتے ہیں
اردو میں کئی تاریخیں بھی ہندسوں سے جڑی ہیں، نائن الیون اور سیون سیون جیسے واقعات دنیا کی یادداشت میں نقش ہیں۔ مغرب میں 13 کو منحوس سمجھا جاتا ہے، اس لیے 12 کے بعد سیدھا 14 آتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے 13 کی منحوسیت سے بچنے کے لیے سال کے 12 مہینوں پر ہی اکتفا کرلیا گیا ہو۔
اعداد کی کرشمہ سازی دیکھیے کہ بعض اوقات ایک ہی عدد پورا منظر بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ’ایک تیر سے دو شکار‘ کرنا عقل مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر ’دو کشتیوں کا سوار‘ اکثر بیچ منجدھار رہ جاتا ہے۔ زندگی میں توازن نہ ہو تو پھر انسان کو صرف ’دو وقت کی روٹی‘ ہی بڑی کامیابی لگنے لگتی ہے، ورنہ خواہشات تو ’سات سمندر پار‘ تک پھیلی ہوتی ہیں۔
کچھ محاورے ایسے ہیں جو سیدھا دل و دماغ پر اثر کرتے ہیں۔ مثلاً کسی کو سبق سکھانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ اسے ’چھٹی کا دودھ یاد دلانا‘ پڑے گا۔ اور اگر کوئی حد سے زیادہ عیاری دکھانے کے بعد نیکی کا لبادہ اوڑھے تو فوراً یاد آتا ہے: ’نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘۔گویا حساب کتاب یہاں بھی چل رہا ہے، بس کاغذ قلم کے بغیر جہاں نو سو گناہ معاف اور ایک نیکی کا ڈھنڈورا الگ پیٹا جاتا ہے۔
بعض اوقات تعداد کم ہونے کے باوجود اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ ’سو سنار کی، ایک لوہار کی‘۔ یعنی بار بار کی معمولی کوششوں کے مقابلے میں ایک بھرپور وار زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ’دس منہ، دس باتیں‘ بھی حقیقت ہے، ہر شخص اپنی گنتی الگ لے کر بیٹھا ہے۔
کچھ محاورے معاشرتی رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ’چار لوگوں میں بات ہونا‘ ہمارے ہاں بدنامی کی معراج سمجھی جاتی ہے، اسی لیے لوگ ’سو جتن‘ کرتے ہیں کہ سچ کے بجائے ساکھ بچی رہے، چاہے سچ بیچارہ منہ دیکھتا رہ جائے۔ جبکہ خوشی یا حیرت کے عالم میں کہا جاتا ہے کہ ’چودہ طبق روشن ہو گئے‘ گویا روشنی بھی اب عددوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
بعض اوقات کچھ باتیں محض ’چوتھی کا جوڑا‘ بن جاتی ہیں، نہ ان کا کوئی محل ہوتا ہے نہ مطلب، مگر کہی ضرور جاتی ہیں۔ ہم اکثر ’آدھا سچ‘ پر گزارا کرلیتے ہیں اور باقی کو حالات کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں، یوں زندگی بھی ’ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے‘ ڈولتی رہتی ہے۔ ہر طرف ’ایک سے بڑھ کر ایک‘ لوگ ملتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی امتحان آن پڑے تو سچ سے ’دو چار ہونا‘ مشکل ہو جاتا ہے، اور ’دو ٹوک بات کرنا‘ تو گویا اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اردو میں اعداد محض گنتی کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور بیان کرنے کا ایک مکمل نظام ہیں۔ کہیں یہ عقل کا پیمانہ بنتے ہیں، کہیں مزاح کا، اور کہیں طنز کا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے زندگی کے بڑے بڑے مسائل کو بھی انہی محاوروں کی طرح ہلکا لینا شروع کر دیا ہے ورنہ حساب تو آج بھی وہی ہے: ایک اور ایک، آخرکار دو ہی ہوتے ہیں۔
اور موجودہ دور کا سب سے مقبول محاورہ شاید ’دو نمبر‘ ہے۔ ہر شے میں دو نمبری اس قدر عام ہو چکی ہے کہ ایک نمبر چیز ڈھونڈنے کے لیے عدسہ درکار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے شیخ صاحب کو گھر پر تازہ دودھ مل جایا کرتا تھا اور وہ بھینس پالنے کے وبال سے بچے ہوئے تھے مگر اب اس قدر پانی ملا دودھ آنے لگا ہے کہ وہ بھی بھینس پالنے کا سوچ رہے ہیں۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ یہاں جمہوریت سے لے کر ادویات تک سب کچھ ’دو نمبر‘ ہے۔ گویا ہم ایک باقاعدہ ’دو نمبر عہد‘ میں جی رہے ہیں۔ اے کاش عوام ’ڈیڑھ اینٹ کی مسجد‘ بنانے کے بجائے متحد ہو کر کوئی ایک نمبر لیڈر تلاش کرلیں تاکہ ہم بھی کبھی اس دو نمبری سے نکل کر ’ایک نمبر‘ زمانہ دیکھ سکیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













