باپ بننا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی عمل بھی ہے جو مرد کے دماغ اور ہارمونز میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور یہ عمل بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باپ بننے والے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے ان میں نرمی، توجہ اور بچوں کی دیکھ بھال کا رجحان بڑھتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جو مرد بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں یہ تبدیلیاں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دیگر ہارمونز جیسے آکسیٹوسن (محبت کا ہارمون)، پرولیکٹن اور ویسوپریسن بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آکسیٹوسن کی سطح اس وقت بڑھتی ہے جب باپ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے کھیلتے یا انہیں گود میں لیتے ہیں جس سے والد اور بچے کے درمیان مضبوط جذباتی تعلق قائم ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: انسانوں کو ایک ساتھ کھانا کھانے میں کیوں لطف آتا ہے؟
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ باپ بننے کے بعد مرد کے دماغ میں ساختی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو اسے نئی ذمہ داریوں کے مطابق ڈھالتی ہیں۔
’یوز اٹ اور لوز اٹ‘
ماہرین اس عمل کو ’دوسری بلوغت‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مرد جو بچوں کی پرورش میں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں ان کے دماغ میں یہ تبدیلیاں زیادہ گہری ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟
اس سے ’یوز اٹ اور لوز اٹ‘ (استعمال کریں ورنہ کھو دیں) کا اصول واضح ہوتا ہے یعنی اگر آپ کسی صلاحیت یا عادت کو استعمال کریں گے تو وہ مضبوط ہوگی اور اگر استعمال نہیں کریں گے تو وہ کمزور یا ختم ہو جائے گی۔
مزید برآں ہم جنس جوڑوں پر ہونے والی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جب مرد بچوں کی بنیادی نگہداشت کرتے ہیں تو ان کے دماغ کے وہ حصے بھی فعال ہو جاتے ہیں جو عموماً ماؤں میں دیکھے جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرد فطری طور پر بھی پرورش کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فعال باپ نہ صرف خاندان کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ بچوں کی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ایک بڑی تحقیق کے مطابق ایسے بچوں کی دل کی صحت بہتر ہوتی ہے جن کے والد زیادہ توجہ دینے والے اور شامل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بخار دشمن نہیں الارم، اس کو ’بجتے‘ ہی ’بند‘ نہ کریں
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ان سائنسی شواہد کی روشنی میں سماجی اور خاندانی پالیسیوں، خصوصاً والدین کی چھٹیوں اور باپ کی ابتدائی شمولیت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ مضبوط اور صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔













