باپ بننے پر مرد کے جسم میں کون سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

باپ بننا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی عمل بھی ہے جو مرد کے دماغ اور ہارمونز میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور یہ عمل بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باپ بننے والے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے ان میں نرمی، توجہ اور بچوں کی دیکھ بھال کا رجحان بڑھتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جو مرد بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں یہ تبدیلیاں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دیگر ہارمونز جیسے آکسیٹوسن (محبت کا ہارمون)، پرولیکٹن اور ویسوپریسن بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آکسیٹوسن کی سطح اس وقت بڑھتی ہے جب باپ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے کھیلتے یا انہیں گود میں لیتے ہیں جس سے والد اور بچے کے درمیان مضبوط جذباتی تعلق قائم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: انسانوں کو ایک ساتھ کھانا کھانے میں کیوں لطف آتا ہے؟

تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ باپ بننے کے بعد مرد کے دماغ میں ساختی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو اسے نئی ذمہ داریوں کے مطابق ڈھالتی ہیں۔

’یوز اٹ اور لوز اٹ‘

ماہرین اس عمل کو ’دوسری بلوغت‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مرد جو بچوں کی پرورش میں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں ان کے دماغ میں یہ تبدیلیاں زیادہ گہری ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟

اس سے ’یوز اٹ اور لوز اٹ‘ (استعمال کریں ورنہ کھو دیں) کا اصول واضح ہوتا ہے یعنی اگر آپ کسی صلاحیت یا عادت کو استعمال کریں گے تو وہ مضبوط ہوگی اور اگر استعمال نہیں کریں گے تو وہ کمزور یا ختم ہو جائے گی۔

مزید برآں ہم جنس جوڑوں پر ہونے والی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جب مرد بچوں کی بنیادی نگہداشت کرتے ہیں تو ان کے دماغ کے وہ حصے بھی فعال ہو جاتے ہیں جو عموماً ماؤں میں دیکھے جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرد فطری طور پر بھی پرورش کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فعال باپ نہ صرف خاندان کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ بچوں کی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ایک بڑی تحقیق کے مطابق ایسے بچوں کی دل کی صحت بہتر ہوتی ہے جن کے والد زیادہ توجہ دینے والے اور شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بخار دشمن نہیں الارم، اس کو ’بجتے‘ ہی ’بند‘ نہ کریں

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ان سائنسی شواہد کی روشنی میں سماجی اور خاندانی پالیسیوں، خصوصاً والدین کی چھٹیوں اور باپ کی ابتدائی شمولیت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ مضبوط اور صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم