چند روز قبل شہر اقتدار میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے پیپلز پارٹی بلوچستان کے اراکین اسمبلی نے ملاقات کی، اس ملاقات کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پیپلز پارٹی بلوچستان کے ناراض اراکین تو شامل تھے مگر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی شامل نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات میں صوبائی وزرا، ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز شامل تھے، ملاقات طویل دیر تک جاری رہی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے ناراض اراکین اسمبلی نے صدر مملکت کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے۔
مزید پڑھیں: آصف علی زرداری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ناراض، ملاقات سے انکار
ذرائع کے مطابق یہ شکوے شکایات ذاتی نوعیت کی تھیں، کسی نے کہا کہ میرے فنڈز نہیں مل رہے تو کسی نے شکایت کی کہ میرا ڈی سی اور ایس پی نہیں لگایا جارہا، جبکہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کسی بھی معاملے میں ہم کو اعتماد میں نہیں لیتے جس کی وجہ سے صوبے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ خصوصا وزیر اعلیٰ بلوچستان کےانتہائی سخت رویے کی وجہ سے صوبے میں امن و امان کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے۔
پارلیمنٹیرینز کا دوسرا گروپ جو وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا حمایتی تھا، نے انتہائی ٹھوس اور مدلل انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے حمایتی گروپ کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کے ابھی 2 سال مکمل نہیں ہوئے اور مختصر عرصے میں صوبائی حکومت نے ہر شعبے میں ڈیلیور کیا ہے، عوام کو ریلیف کے لیے اقدامات کیے ہیں جس کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
صدر مملکت کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ حکومت تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں عوام دوست اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس اور میرٹ پر نوکریاں دینے کے لیے بھی کام کررہی ہے، اور جون تک مزید اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوجائیں گے۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ملاقات، صوبے کی ترقی اور امن و امان پر گفتگو
انہوں نے مزید کہاکہ امن و امان کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ سالوں پرانا ہے جس کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ صوبے میں ایک مخلوط حکومت ہے بہت سی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے چھوٹی موٹی شکایات پیدا ہوتی ہیں جن کو باہمی مشاورت سے دور کیا جاسکتا ہے، اتنا بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کو تبدیل کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر صدر مملکت آصف زرداری نے کہاکہ میں نے اس ملاقات میں وزیراعلیٰ بلوچستان کو اس لیے نہیں بلایا کہ آپ کو اکیلے سن سکوں، کیونکہ وزیر اعلیٰ کے سامنے بات کرنا آسان نہیں ہوتا، بہر حال میں چین کے دورے پر جارہا ہوں اور وہاں سے واپسی پر جلد بلوچستان کا دورہ کروں گا اور دورے کے دوران میں پارٹی قیات، کارکنوں اور ارکان اسمبلی سے بھی ملوں گا۔
انہوں نے کہاکہ آپ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تاکہ صوبے کے مسائل اچھے انداز میں حل ہو سکیں۔
اس ملاقات کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی کی جو خبریں گردش کررہی تھیں وہ دم توڑ گئی ہیں۔












